مقبوضہ مغربی کنارے میں الخلیل کے
قریب واقع مسافر یطا کے فلسطینیوں نے اپنے گھروں کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مسمار
کئے جانے کے بعد پناہ کیلئے پہاڑی ڈھلوانوں میں غار تراشنے کا سہارا لیا ہے۔
مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی ریاست کی جانب سے فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری غیر
معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔ 2025ء میں کم از کم
۱۲۶۷؍فلسطینی عمارتیں مسمار کی گئیں۔ اسرائیل کا
دعویٰ تھا کہ یہ تعمیرات غیر قانونی تھیں۔ اسرائیلی حقوق کی تنظیم بتسیلم کے مطابق2026ءسے ریکارڈ شروع ہونے کے بعد یہ کسی ایک سال میں
مسمار کی جانے والی عمارتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اسرائیلی حکام عموماً انہدام کے احکامات کی
بنیادی وجہ تعمیراتی اجازت نامے کی عدم موجودگی کو قرار دیتے ہیں، جبکہ انسانی
حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی فلسطینیوں کی ترقی اور تعمیرات کو محدود
کرتی ہے اور غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع میں سہولت فراہم کرتی ہے۔ ناقدین کے
مطابق یہ پالیسی مقبوضہ فلسطینی علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی
اسرائیلی کوششوں کا بھی حصہ ہے۔ اکتوبر2023 میں
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ شروع کئےجانے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد
میں مزید شدت آئی، جہاں ہلاکتوں، گرفتاریوں، مکانات کی مسماری اور غیر قانونی
یہودی بستیوں کی توسیع میں اضافہ ہوا۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی
امور (او سی ایچ اے) کے مطابق 2026ءمیں بھی یہ
سلسلہ جاری ہے اور مکانات کی مسماری اور آبادکاروں کے حملوں کے باعث ہر ماہ
سیکڑوں فلسطینی بے گھر ہو رہے ہیں۔