غزہ میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے
نسل کشی کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور جنگ کے نتیجے میں شہید فلسطینیوں کی تعداد
تقریباً 74 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سال سے جاری
اسرائیلی حملوں میں زخمی فلسطینیوں کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار کے قریب پہنچ چکی
ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہزاروں فلسطینی اب بھی تک ملبے تلے
دبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خدشات
ہیں کہ جاری حملے میں شہید فلسطینیوں کی حتمی گنتی مکمل ہونے پر یہ تعداد ایک لاکھ
سے تجاوز کر جائے گی۔
سات اکتوبر 2023ء کو جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ کی پٹی پر اسرائیلی
جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد 74 ہزار 18 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی
تعداد ایک لاکھ 75 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔اس دوران قابض فوج کی طرف سے جنگ بندی
معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ فلسطینی وزارتِ صحت نے اپنی روزانہ
کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی پر جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک شہداء کی
تعداد بڑھ کر 74 ہزار 18 اور مختلف نوعیت کے زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار 79
ہو گئی ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بمباری اور
حملوں کے تسلسل کی وجہ سے غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں دو شہداء کے جسد خاکی اور
گیارہ زخمی لائے گئے۔
وزارتِ صحت نے واضح کیا کہ 11 اکتوبر 2025ء کو جنگ بندی کا معاہدہ
نافذ العمل ہونے کے بعد سے اب تک جاں بحق ہونے والے کل شہداء کی تعداد 1417 ہو گئی
ہے، اس کے علاوہ 4964 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر لاشیں نکالنے کے
واقعات کی تعداد 834 شہداء تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اب بھی کئی متاثرین منہدم عمارتوں
کے ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں، کیونکہ ایمبولینس اور سول ڈیفنس کے عملے کو
وہاں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگ بندی کے معاہدے
کی اسرائیلی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ رپورٹ میں فراہم کردہ اعداد و شمار کے
مطابق قابض فوج نے ہفتے کے روز معاہدے کی 20 خلاف ورزیاں کیں، جن میں توپ خانے سے
بمباری، فائرنگ اور شمالی و جنوبی غزہ کے مختلف علاقوں میں پناہ گزینوں کو نشانہ
بنانا شامل ہے۔ یہ جمع شدہ اعداد و شمار اکتوبر 2023ء سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی
جارحیت کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کے حجم کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ ملبے تلے
دبے ہوئے متاثرین تک پہنچنے کے لیے تلاش اور لاشیں نکالنے کا کام اب بھی جاری ہے،
جسے ریسکیو اور ایمبولینس کے عملے کو درپیش سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔