نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ اب
فیصلہ سازوں کیلئے صرف پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ سہیل
آفریدی کی حکومت ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا کہ لانگ مارچ اب چار اکتوبر کو شروع ہوگا۔ اس سے قبل تحریک انصاف نے 27 ستمبر سے احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تحریک انصاف کے ترجمان ذوالفقار بخاری نے کہا کہ اگرچہ لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کر دی گئی ہے، تاہم پارٹی جب مناسب سمجھے، احتجاج شروع کر سکتی ہے۔ بخاری نے سوال اٹھایا کہ حکومت آخر کب تک ملک
کو بند رکھنا چاہتی ہے۔ مجوزہ احتجاج سے قبل پاکستانی حکام نے رواں ہفتے
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک رسائی محدود کر دی تھی۔ اہم شاہراہوں پر کنٹینرز لگا دیے گئے تھے
جبکہ سکیورٹی کے لیے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
مقامی میڈیا کے مطابق حکام نے امن و امان برقرار رکھنے کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے حالیہ دنوں میں عمران خان کی تین بہنوں اور تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکنوں کو بھی حراست میں لیا ہے۔ تحریک انصاف کا دو سال قبل ہونے والا آخری بڑا احتجاج سکیورٹی فورسز کے ساتھ مہلک جھڑپوں پر
ختم ہوا تھا۔ 73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے قید ہیں۔ سابق وزیر اعظم کو اپریل 2022 میں پارلیمان میں
تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ عمران خان اپنے خلاف مقدمات کو سیاسی بنیادوں
پر قائم کردہ قرار دیتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ انہیں سیاسی وجوہات کی بنا پر
قید رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ اب فیصلہ
سازوں کیلئے صرف پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ سہیل آفریدی کی
حکومت ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مسئلہ اب
لانگ مارچ سے آگے بڑھ چکا ہے کیوں کہ اب مسئلہ قومی سلامتی کا ہے اس لیے اب یہ
فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی حکومت کو جانا ہوگا۔
ذرائع کا
کہنا ہے کہ اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ سہیل آفریدی اور ان کے ساتھی دہشت گردوں سے
مل کر پاکستان کو کمزور کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی بڑھ رہی
ہے۔ اس لیے اب یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی حکومت کو جانا ہوگا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت کچھ اور
ہی سوچ رہی ہے، فیصلہ سازوں کا یہ کہنا ہے کہ اب صرف پاکستان تحریک انصاف کا لانگ
مارچ مسئلہ نہیں ہے، پاکستان تحریک انصاف کو لانگ مارچ کرنا ہے تو کرے، ملتوی کرنا
ہے تو ملتوی کرے، مسئلہ اب اس سے آگے بڑھ چکا ہے کیونکہ اب مسئلہ قومی سلامتی کا
ہے۔