جسم میں مسلسل رہنے والی ہلکی درجے
کی سوزش بظاہر ایک خاموش مسئلہ ہوسکتی ہے لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا
تعلق دل کی ساخت، اس کے کام اور ہارٹ اٹیک، فالج اور دل کی کمزوری جیسے سنگین
امراض کے خطرے سے ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جسم میں سوزش صرف کسی چوٹ یا انفیکشن کے
وقت ہی نہیں ہوتی بلکہ بعض افراد میں یہ طویل عرصے تک کم درجے پر موجود رہ سکتی
ہے۔ ایسی دائمی سوزش کا تعلق موٹاپے، تمباکو نوشی، ذہنی دباؤ، کم جسمانی سرگرمی
اور غیر صحت بخش خوراک سمیت متعدد عوامل سے ہوسکتا ہے۔
تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں
کہ سوزش کی بلند سطح کو دل کے مرض کی حتمی تشخیص نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے اثرات
اور دل کے امراض کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
یورپی جرنل آف پریوینٹو کارڈیالوجی
میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں تقریباً 5 لاکھ افراد کے طبی ڈیٹا کا
جائزہ لیا گیا۔ محققین نے جسم میں طویل عرصے سے موجود سوزش کا اندازہ
لگانے کے لیے خون میں موجود ایک حیاتیاتی نشان اور گلائکوپروٹین ایسیٹائلز (گلائک
اے) کی سطح کو دیکھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی جاننے کی کوشش کی گئی کہ سوزش اور دل کی
صحت کے درمیان تعلق پر طرزِ زندگی، ماحولیاتی عوامل اور جینیاتی خصوصیات کس حد تک
اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ تحقیق میں شامل 4 لاکھ 88 ہزار سے زائد افراد میں گلائک اے
کی سطح کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد میں اس نشان کی سطح زیادہ
تھی ان کے دل کے بائیں وینٹریکل یعنی دل کے اس حصے سے جو خون کو پورے جسم میں پمپ
کرتا ہے کی ساخت میں بعض تبدیلیاں زیادہ دیکھی گئیں۔
ایسے افراد میں دل کے بائیں
وینٹریکل کا حجم نسبتاً کم، اس کی دیوار موٹی اور دل کے خون سے بھرنے کے عمل جسے
ڈائسٹولک فنکشن کہا جاتا ہے میں کمی کا امکان بھی زیادہ تھا۔
تحقیق میں جسمانی سوزش کی زیادہ سطح
کا تعلق سنگین قلبی مسائل کے مجموعی خطرے سے بھی دیکھا گیا جن میں ہارٹ اٹیک، فالج
اور دل کی کمزوری شامل ہیں۔ تحقیق کے مطابق گلائک اے کی سب سے زیادہ سطح رکھنے والے
افراد میں بڑی قلبی پیچیدگی کا خطرہ سب سے کم سطح رکھنے والوں کے مقابلے میں
تقریباً 43 فیصد زیادہ تھا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نتیجے کا مطلب یہ نہیں کہ
جسم میں سوزش براہِ راست ہارٹ اٹیک یا فالج کا سبب بنتی ہے۔ تحقیق نے بنیادی طور
پر دونوں کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے۔
ماہرین کے مطابق گلائک اے کو مستقبل
میں دل کے خطرے کا اندازہ لگانے کے لیے ایک اضافی نشان کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے
لیکن اسے اکیلے کسی بیماری کی تشخیص یا علاج کا معیار نہیں سمجھا جاسکتا۔
تحقیق میں ایسے عوامل کی بھی
نشاندہی کی گئی جو جسم میں سوزش کی زیادہ سطح سے وابستہ تھے۔
ان میں پیٹ اور دھڑ کے گرد اضافی
چربی، تمباکو نوشی، ذہنی دباؤ اور کم سماجی و معاشی حالات شامل تھے۔ خاص طور پر جسم کے
درمیانی حصے کے گرد جمع ہونے والی اضافی چربی محض ظاہری مسئلہ نہیں سمجھی جاتی۔
ماہرین کے مطابق پیٹ کے اندر موجود چربی جسم کے ہارمونز اور میٹابولزم پر اثر ڈال
سکتی ہے اور سوزش کے عمل کو بڑھانے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
اسی طرح تمباکو نوشی خون کی شریانوں
کو نقصان پہنچانے کے ساتھ جسم میں سوزش بھی بڑھاتی ہے جبکہ مسلسل ذہنی دباؤ نیند،
جسمانی سرگرمی، خوراک اور دیگر صحت مند عادات کو متاثر کرسکتا ہے۔
تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے
آیا کہ زیادہ جسمانی سرگرمی اور نسبتاً صحت مند خوراک کا تعلق جسم میں گلائک اے کی
کم سطح سے تھا۔ ماہرین کے مطابق باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی، متوازن خوراک،
مناسب وزن برقرار رکھنا اور تمباکو نوشی سے گریز ایسی عادات ہیں جو پہلے ہی دل کی
صحت کے لیے مفید سمجھی جاتی ہیں۔ غذائیت سے بھرپور اور کم پراسیس شدہ خوراک، مناسب جسمانی
سرگرمی اور پیٹ کے گرد اضافی چربی میں کمی سے خون میں شوگر اور دیگر میٹابولک
عوامل کو بہتر رکھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے جس کے نتیجے میں دل کے لیے مجموعی
خطرات کم ہوسکتے ہیں۔ البتہ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف سوزش کا ایک
نشان کم کرنا ہی دل کے امراض سے بچاؤ کی ضمانت نہیں ہے۔ بلڈ پریشر، کولیسٹرول، خون
میں شوگر، وزن، تمباکو نوشی اور مجموعی طبی تاریخ جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھنا
ضروری ہے۔
محققین نے یہ جاننے کی بھی کوشش کی
کہ کیا جینیاتی خصوصیات سوزش اور دل کے امراض کے درمیان تعلق کو متاثر کرتی ہیں۔ نتائج سے اشارہ ملا کہ
بعض افراد میں جینیاتی خصوصیات اس بات پر اثر انداز ہوسکتی ہیں کہ ان کا جسم پیٹ
کی چربی، تمباکو نوشی، خوراک، ذہنی دباؤ یا کم جسمانی سرگرمی جیسے عوامل کے ردعمل
میں کتنی سوزش پیدا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دل کی صحت صرف جینیات یا صرف طرزِ
زندگی کا معاملہ نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خطرے کو متاثر کرسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جسم میں دائمی سوزش
کے تمام اسباب کو ختم کرنا ہمیشہ ممکن نہیں لیکن کئی ایسے عوامل موجود ہیں جن پر
انسان خود توجہ دے سکتا ہے۔ باقاعدہ چہل قدمی یا ورزش، متوازن اور کم پراسیس شدہ
خوراک، مناسب وزن، تمباکو نوشی سے پرہیز، بہتر نیند، ذہنی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش
اور بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور خون میں شوگر کو قابو میں رکھنا دل کی مجموعی صحت کے
لیے اہم اقدامات ہیں۔ مجموعی طور پر تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جسم
میں مسلسل جاری رہنے والی سوزش اور دل کی صحت کے درمیان ایک اہم تعلق ہوسکتا ہے۔
تاہم سوزش کے کسی ایک خون کے نشان کی بلند سطح کو بیماری سمجھنے کے بجائے اسے
مجموعی قلبی خطرے کی تصویر کے ایک حصے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔