انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور نے جناح
ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کو 20 روزہ
جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ
کیس میں پیش رفت کے دوران پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کو انتہائی سخت سیکیورٹی میں
انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا، پیشی کے موقع پر حماد اظہر کو ہاتھوں میں
ہتھکڑیاں لگا کر اور چہرے پر کپڑا ڈال کر عدالتی احاطے اور کمرہ عدالت میں لایا گیا،
حماد اظہر کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی وجوہات اور ضابطے کی کارروائی کا حوالہ دیتے
ہوئے تمام میڈیا پرسنز اور صحافیوں کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔
تفتشی ٹیم اور پولیس نے عدالت کے سامنے
مؤقف اختیار کیا کہ ’جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ کیس کی تفتیش، نقشہ سوچ اور دیگر
ثبوتوں کی برآمدگی کے لیے حماد اظہر کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے‘، فاضل جج نے دونوں
فریقین اور وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست پر فیصلہ کچھ دیر کے لیے
محفوظ کیا، بعد ازاں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے حماد اظہر کو 20 روز کے
جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
قبل ازیں حماد اظہر کی والدہ نے قانون
دان بیرسٹر ابوزر سلیمان خان نیازی کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں حبسِ بے جا کی
درخواست دائر کی، درخواست میں آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور اور دیگر متعلقہ
اعلیٰ پولیس حکام کو فریق نامزد کیا گیا، درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حماد اظہر
کو کسی بھی قانونی جواز کے بغیر حراست میں رکھا جا رہا ہے جو آئین و قانون کی خلاف
ورزی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر ابوزر سلیمان
خان نیازی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حماد اظہر کو دو روز قبل ملتان سے حراست میں
لیا گیا تھا، مگر گرفتاری کے اتنے گھنٹے گزر جانے کے باوجود انہیں تاحال کسی بھی
متعلقہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، حماد اظہر کی حراست کو غیر قانونی قرار دیا
جائے اور پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا جائے کہ وہ حماد
اظہر کو فوری بازیاب کروا کر عدالت کے سامنے پیش کریں۔
خیال رہے کہ پولیس نے پاکستان تحریک
انصاف کے رہنماء، سابق رکن قومی اسمبلی اور سابق صدر پی ٹی آئی پنجاب حماد اظہر کو
ملتان سے حراست میں لیا تھا، پولیس ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات میں
کہا گیا کہ حماد اظہر کو ملتان کی حدود سے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد انہیں فوری
طور پر قانونی کارروائی کی انجام دہی کے لیے لاہور پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔