امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ
نے فوج کی اعلیٰ قیادت میں بڑی تبدیلی کے تحت جنرلز اور ایڈمرلز کے لیے مختص 20
فیصد عہدے کم کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی، جس کا مقصد اعلیٰ سطح پر غیر ضروری
بیوروکریسی کم کرنا اور فوجی کارروائیوں کے قریب موجود اہلکاروں کو مزید اختیارات
دینا ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق پیٹ
ہیگسیتھ نے رواں ماہ کے آغاز میں بری فوج، بحریہ، فضائیہ اور فوج کے مشترکہ پول
میں جنرلز اور ایڈمرلز کے لیے مختص عہدوں میں کمی کے منصوبوں کی منظوری دی۔ یہ کٹوتیاں یکم جنوری 2027 تک مکمل کیے
جانے کی توقع ہے۔ نیا ہدف گزشتہ سال پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے جنرلز اور فلیگ افسران
کے عہدوں میں کی گئی مجموعی 10 فیصد کمی سے دگنا ہے۔
امریکی ٹی وی کے مطابق کٹوتیوں کا اطلاق جنرلز اور ایڈمرلز کے لیے
مختص عہدوں پر ہوگا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ عہدوں پر فائز 20 فیصد جنرلز
اور ایڈمرلز کو ہٹا دیا جائے گا۔ کچھ عہدوں کو ختم کرنے کے بجائے ان کا درجہ کم کیا جائے گا، جس کے
نتیجے میں کرنلز اور بحریہ کے کپتان ایسے فرائض سنبھال سکیں گے جو پہلے اعلیٰ رینک
کے افسران کے لیے مخصوص تھے۔
پیٹ ہیگسیتھ کا مؤقف ہے کہ
اعلیٰ قیادت میں کمی سے غیر ضروری بیوروکریسی ختم ہوگی اور فوجی کارروائیوں کے
قریب موجود اہلکاروں کو زیادہ اختیارات منتقل کیے جاسکیں گے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے مئی 2025 میں پہلے کٹوتی کے منصوبے کا اعلان کرتے
ہوئے کہا تھا کہ یہ اعلیٰ رینک کے افسران کو سزا دینے کے لیے بڑے پیمانے پر عہدے
ختم کرنے کی مشق نہیں ہے۔ پیٹ ہیگسیتھ بدھ کو ہونے والے ‘اسٹیٹ آف دی فورس’ خطاب کے دوران ان
تبدیلیوں کی تفصیلات پیش کرنے کی توقع ہے۔