غزہ کے بارے میں ایک فلسطین بچی کا پیغام سوشل میڈیا پر
نمایاں ہوا، جس میں اس نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ
پوری دنیا پر اختیار رکھنے کے باوجود غزہ پر قابو نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ غزہ
خود ایک دنیا ہے۔ یہ منظر عام پر اقوام متحدہ کا جیسا منظر ٹرمپ کی جانب سے غزہ پر
امریکی کنٹرول اور فلسطینیوں کی منتقلی سے متعلق 2025 کے بیانات تھے۔اس بچی کی
شناخت باریا حنون کے طور پر کی گئی، جو غزہ جنگ سے متاثرہ فلسطینی بچی ہیں۔ ان کا
پیغام اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ کی غزہ کو خریدنے اور وہاں کے فلسطینیوں کو دوسرے
ممالک منتقل کرنے کی تجاویز زیر بحث تھیں۔غزہ کا مسئلہ صرف زمین یا سیاست تک محدود
نہیں بلکہ لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی، گھر، شناخت اور بقا سے جڑا ہوا انسانی مسئلہ
ہے۔ اسی لیے فلسطین کی جبری منتقلی سے متعلق تجاویز پر عالمی سطح پر شدید ردعمل
سامنے آیا اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی جبری بے دخلی یا نسلی صفائی
جیسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔یہ پیغام ایک بچی کی آواز میں سامنے آنے کے
باعث خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا، کیونکہ اس میں اپنے گھر اور سرزمین سے وابستگی
کا واضح اظہار کیا گیا تھا۔