بھارتی حکام نے سری نگر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و
کشمیر کے دیگر علاقوں میں پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ بھارتی فورسز نے سری نگر
میں قانون ساز اسمبلی اور سول سیکریٹریٹ کے اطراف سیکیورٹی اقدامات میں اضافہ کر
دیا ہے، جہاں 7 نشستوں پر مشتمل خزاں اجلاس آج سے شروع ہو رہا ہے۔ جنرل
ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق سول سیکریٹریٹ اور اسمبلی
کے ملازمین سمیت سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کی نجی گاڑیوں کو
سیکریٹریٹ کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وزیراعلیٰ، نائب وزیراعلیٰ،
وزرا، وزیراعلیٰ کے مشیر، اسپیکر اور ارکان اسمبلی کی گاڑیاں اسمبلی کمپلیکس میں
مقررہ مقامات پر پارک کی جائیں گی، جبکہ تسلیم شدہ میڈیا نمائندوں کو بھی سکیورٹی
چیکنگ سے گزرنا ہوگا۔
ادھر کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل پولیس سوجیت کمار نے کپواڑہ اور ہندواڑہ
کے دورے کے دوران موجودہ صورتحال، سرچ آپریشنز اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ
لیا۔ کپواڑہ میں ایس ایس پی طاہر گیلانی نے آئی جی پولیس کو ضلع کی مجموعی صورتحال
اور آپریشنل امور پر بریفنگ دی، جبکہ آئی جی نے ڈارڈپورہ میں ٹیکٹیکل آپریٹنگ بیس
کا دورہ بھی کیا اور اسپیشل آپریشنز گروپ کے اہلکاروں سے ملاقات کی۔ بھارتی فوج
اور پولیس کی جانب سے مقبوضہ علاقے کے کئی حصوں میں محاصرے اور تلاشی کی
کارروائیاں اور شہریوں کی چیکنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کشمیریوں کی جانب سے مسئلہ
کشمیر کے حل اور بنیادی سیاسی حقوق کے مطالبات کے باوجود، ان اقدامات سے علاقے میں
سیکیورٹی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔