تھائی لینڈ میں شدید بارشوں کے باعث
آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی، دارالحکومت بنکاک کے کئی علاقے زیر
آب آگئے جبکہ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر قائم پناہ گاہوں میں منتقل کردیا
گیا۔ سیلاب سے ملک بھر میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 5 لاکھ 80 ہزار سے زائد گھر
متاثر ہوئے ہیں، جبکہ معاشی نقصان 320 ملین ڈالر سے زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو بنکاک کے کئی علاقوں میں شہری کمر تک پانی
میں چلنے پر مجبور ہوگئے، جبکہ بعض علاقوں میں سڑکیں اور رہائشی محلے مکمل طور پر
زیر آب آگئے۔ گزشتہ ہفتے 2 سے 3 روز کے دوران 320 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو
بنکاک میں ستمبر کے پورے مہینے میں ہونے والی معمول کی بارش کے تقریباً برابر ہے۔
شدید بارشوں کے باعث شہر کا نکاسی آب کا نظام بھی متاثر ہوا۔
سیلاب کے باعث بنکاک کے رہائشیوں کو
خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ 60 سالہ بنکاک رہائشی بانگورن ڈیڈنوم نے بتایا کہ وہ
وقت پر تیاری نہیں کرسکے اور گھر میں کھانے پینے کی اشیا ختم ہوچکی ہیں۔ ان کے
مطابق وہ ضروری سامان بھی وقت پر جمع نہیں کرسکے تھے۔
تھائی
لینڈ کی وزارت داخلہ کے مطابق 16 ستمبر سے اب تک ملک کے 41 صوبے سیلاب سے متاثر
ہوئے ہیں۔ سیلاب کے باعث 5 لاکھ 80 ہزار سے زائد گھر متاثر ہوئے جبکہ 80 ہزار سے
زیادہ افراد ایسے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں سے ان کا نکلنا ممکن نہیں۔ وزارت داخلہ کے مستقل سیکریٹری انسیٹ سمپنتھارات Athisit
Sammakphantarat نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں موبائل کچن اور کشتیوں کے
ذریعے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے دوران تمام متاثرہ
شہریوں کو روزانہ 3 وقت کھانا فراہم کرنا ہدف ہے، جبکہ پانی اترنے کے بعد بھی کم
از کم 7 روز تک خوراک کی فراہمی جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔
سیلاب سے 320 ملین
ڈالر سے زیادہ نقصان کا خدشہ
رائٹرز
کے مطابق تھائی لینڈ کی رنگسِٹ یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات سے وابستہ ماہر آت
پیسانوانچ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے ملک بھر میں کم از کم 11 ارب بھات، یعنی تقریباً
327 ملین ڈالر کا معاشی نقصان ہوسکتا ہے، جبکہ صورتحال بہتر نہ ہونے کی صورت میں
نقصانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق سیلاب کے باعث رواں سال تھائی لینڈ کی مجموعی
قومی پیداوار کی شرح نمو میں 0.3 فیصد کمی کا خدشہ ہے، جس کے بعد یہ شرح 2.1 فیصد
رہ سکتی ہے۔ رواں سال کی تیسری سہ ماہی کی شرح نمو بھی تقریباً 0.5 فیصد کم ہوکر 1.7
فیصد رہنے کا امکان ہے۔
جنوب
مشرقی ایشیا کی دوسری بڑی معیشت تھائی لینڈ کی اقتصادی ترقی کورونا وبا کے بعد سے
خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سست رہی ہے۔ رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں ملک
کی معیشت گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 1.9 فیصد بڑھی، تاہم اس سے پچھلی سہ
ماہی میں شرح نمو 2.8 فیصد تھی۔ ماہر معاشیات کے مطابق بنکاک اور مشرقی علاقوں کو سیلاب سے
سب سے زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جہاں تھوک اور پرچون کی تجارت متاثر ہوسکتی
ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں صنعت اور زراعت کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ تھائی چیمبر آف کامرس کی
یونیورسٹی نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ صرف دارالحکومت بنکاک کو تقریباً 7 ارب
بھات کا نقصان ہوسکتا ہے، جبکہ ملک بھر میں مجموعی نقصان 12.3 ارب بھات تک پہنچنے
کا خدشہ ہے۔
بنکاک میں پانی میں تیرتی دکانیں
بنکاک
کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقے بانگ کپی میں شہری پانی میں چل کر ضروری اشیا
خریدنے پر مجبور ہیں۔ بعض دکانداروں نے پانی میں تیرنے والے پلاسٹک کے ڈبوں اور
ڈرموں پر سامان رکھ کر عارضی دکانیں قائم کرلی ہیں۔
مقامی دکاندار ماریسا سنگ پراخون Marisa
Srijunpleang نے بتایا کہ انہوں نے اپنی دکان کا سامان باہر منتقل کردیا
ہے تاکہ گاہک آسانی سے خریداری کرسکیں۔ ان کے مطابق گاہک پانی میں زیادہ دیر کھڑے
نہیں ہونا چاہتے، اس لیے انہیں خود گھٹنوں تک پانی میں کھڑے ہوکر سامان فروخت کرنا
پڑرہا ہے۔ بنکاک کی انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے مطابق شہر میں کم از
کم 5 ہزار 901 افراد 234 عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔
مشرقی صوبے میں
بھی انخلا کا حکم
تھائی
لینڈ کے مشرقی ساحلی صوبے ریونگ میں بھی سیلابی صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔ حکام نے
پیر کو 2 آبی ذخائر میں پانی کی سطح گنجائش سے بڑھنے کے بعد شہریوں کو محفوظ
مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا۔ یہ صوبہ ملک کے اہم صنعتی علاقے کے قریب واقع
ہے۔ بنکاک سمندر کے قریب نرم مٹی پر واقع ہے اور سطح سمندر سے صرف ڈیڑھ
میٹر بلند ہے۔ شہر کی زمین ہر سال کئی ملی میٹر دھنس رہی ہے، جبکہ 84 لاکھ سے زائد
آبادی والے اس شہر کو ہر سال 6 ماہ کے طویل مون سون موسم میں سیلاب کا سامنا رہتا
ہے۔ گزشتہ سال تھائی لینڈ کے جنوبی علاقوں میں بھی تباہ کن سیلاب آیا
تھا، جہاں 3 روز میں 630 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس سیلاب کے نتیجے میں کم
از کم 145 افراد ہلاک، 33 ہزار سے زائد گھر زیر آب اور اسکولوں، اسپتالوں اور
شاہراہوں سمیت اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔