یوگینڈا میں سابق ٹی وی نیوز اینکر ایڈورڈ روکیدی کیجانانگوما Edward
Rukidi Kijanangoma نے تورو سلطنت Tooro
kingdom کے بادشاہ کا منصب سنبھال
لیا، جس کے بعد وہ بٹورو قوم Batoro people کے 13ویں بادشاہ بن گئے ہیں۔ ان کی تاج پوشی روایتی رسومات کے ساتھ
ہوئی، جس کے نتیجے میں بادشاہت کی جانشینی پر جاری تنازع بھی ختم ہوگیا۔ 56 سالہ ایڈورڈ روکیدی کیجانانگوما Edward
Rukidi Kijanangoma نے سابق بادشاہ اویو
نائمبا کابامبا ایگورو روکیدی چہارم Oyo Nyimba Kabamba
Iguru Rukidi IV کی جگہ لی ہے، جو گزشتہ
ماہ 34 سال کی عمر میں کینسر کے باعث امریکا میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی وفات کے
بعد تخت کی جانشینی پر تنازع پیدا ہوگیا تھا۔ مرحوم بادشاہ کی والدہ کا مؤقف تھا
کہ ان کا ایک ایسا بیٹا بھی موجود ہے جس کا پہلے اعلان نہیں کیا گیا اور وہ تخت کا
حقدار ہے۔
یوگینڈا ایک آئینی جمہوریہ ہے اور ملک کا نظام منتخب صدر کے ذریعے
چلایا جاتا ہے، تاہم نوآبادیاتی دور سے قبل قائم 4 بادشاہتیں آج بھی ثقافتی شناخت
اور روایتی ورثے کی علامت کے طور پر موجود ہیں۔ ان بادشاہتوں کو کوئی سیاسی اختیار
حاصل نہیں۔ شاہی بابیتو قبیلے کی 21 رکنی کمیٹی نے کیجانانگوما Kijanangoma
کو نیا بادشاہ منتخب کیا، وہ سابق بادشاہ اویو نائمبا کے کزن
ہیں۔ جانشینی کے معاملے سے واقف ایک ذریعے کے مطابق مرکزی حکومت نے مرحوم بادشاہ
کی والدہ کے اعتراضات کے باوجود کیجانانگوما Kijanangoma
کے انتخاب کی حمایت کی۔ تاج پوشی کی روایتی تقریب میں
کیجانانگوما Kijanangoma نے
ایڈورڈ روکیدی نیابانگو اول Edward Rukidi Nyabongo I
کا شاہی نام اختیار کیا، تقریب میں بیل ذبح کرنے اور مرغی کا خون
چھڑکنے سمیت مختلف روایتی رسومات ادا کی گئیں۔
نیابانگو اول Edward Rukidi Nyabongo I نے نصف شب سے صبح 3 بجے کے درمیان پیدل کاروزیکا محل کا رخ کیا، جہاں
انہوں نے تاج کے حصول کی علامتی جنگ میں حصہ لیا۔ محل میں نوجوان روایتی لباس پہنے
ہاتھوں میں لاٹھیاں اور نیزے لیے موجود تھے، روایتی رقاصوں اور ڈھول بجانے والوں
نے بھی تقریب میں شرکت کی، جبکہ یوگینڈا کے صدر یوویری موسیوینی Yoweri Museveni سمیت اہم شخصیات نے تقریب
میں شرکت کی۔ اس سے قبل بابیتو قبیلے
Babiito tribe کے سربراہ چارلس کایونڈو کاموراسی Charles
Kayondo Kamurasi نے سینٹ جانز کیتھیڈرل St. John’s Cathedral میں منعقدہ دعائیہ تقریب
کے دوران نئے بادشاہ کو اختیارات منتقل کیے۔
اپنی پہلی تقریر میں نیابانگو اول St. John’s
Cathedral نے ثقافت، روایات اور رسم
و رواج کے تحفظ کو اپنی اہم ذمہ داری قرار دیتے ہوئے عوام کو ماحول کے تحفظ کے لیے
متحد کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ نئے بادشاہ کے سابق ساتھیوں کے مطابق وہ سرکاری
نشریاتی ادارے یو بی سی میں نیوز اینکر اور ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے
اور ایک عاجز اور سادہ مزاج شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔