کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا
ہے کہ ان کی حکومت نے امریکا کی جانب سے کینیڈا کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو
ایک ’انتہائی غیر معمولی خطرے‘ کے طور پر زیرِ غور رکھا ہے۔
امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے
مطابق مارک کارنی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ صدر ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو امریکا کی
51ویں ریاست بنانے سے متعلق ماضی کے بیانات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں؟ اس پر انہوں
نے کہا کہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے غیر معمولی مگر ممکنہ طور پر سنگین
حالات کے لیے بھی تیاری کریں۔ مارک کارنی نے کہا کہ ’اس طرح کے خطرے کو دیکھنا محض
’رسک مینجمنٹ‘ کا حصہ ہے، تاہم یہ ان کی حکومت کے لیے بنیادی منظرنامہ نہیں ہے۔‘
کینیڈین وزیراعظم کے مطابق وہ صدر
ٹرمپ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اگست میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات
ختم ہونے کے بعد بھی کئی مرتبہ بات کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں
کے درمیان اس لحاظ سے تعلقات اچھے ہیں کہ وہ مختلف معاملات پر ایک دوسرے سے براہِ
راست بات کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ کینیڈا نے 21 اگست کو امریکا کے ساتھ تجارتی
مذاکرات معطل کر دیے تھے۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے مطابق واشنگٹن نے
مذاکرات کے آخری مرحلے میں ایسی شرائط پیش کی تھیں جنہیں کینیڈا نے غیر منصفانہ
اور اپنی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
دوسری جانب کینیڈا امریکا پر اپنے
انحصار کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مارک کارنی نے کہا کہ حکومت امریکی
ٹیکنالوجی اور سپلائرز پر انحصار کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان میں ایلون
مسک کے سٹارلنک سیٹلائٹ نیٹ ورک کے متبادل تلاش کرنا اور امریکا سے 88 ایف 35 جنگی
طیاروں کی مجوزہ خریداری کا جائزہ لینا بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق کینیڈا چین
سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھانا چاہتا ہے۔ مارک کارنی نے واضح کیا
کہ بیجنگ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اس کے باوجود مارک کارنی
کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ باہمی فائدے پر مبنی تجارتی معاہدے کی اب بھی گنجائش
موجود ہے۔