اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے
درمیان ایک انتہائی اہم ملاقات ہوئی ہے۔ اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں جاری
کشیدہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں
باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ایرانی
سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات
اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات
ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور دیگر فریقین کے مابین
کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کو حوثیوں کی جانب سے
حملوں کا سامنا ہے جس سے خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جنرل اسمبلی کے اجلاس
کے دوران پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔ ان نشستوں میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کے
اثرات اور علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر مشاورت کی گئی
ہے تاکہ خطے کو مزید بحران سے بچایا جا سکے۔
اُدھر ایرانی وزیر خارجہ عباس
عراقچی نے بھی نیویارک میں مختلف عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ
ان ملاقاتوں کا مقصد ایران کے خلاف جاری سفارتی دباؤ کو کم کرنا اور خطے میں
تنازعات کے خاتمے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔ تہران کی جانب سے ان رابطوں کو
مثبت اشارہ قرار دیا گیا ہے۔ سعودی
عرب اور ایران کی جانب سے ملاقات کی تصدیق تو کر دی گئی ہے، تاہم بات چیت کے
تفصیلی نکات ابھی تک میڈیا کے سامنے نہیں لائے گئے ہیں۔ دونوں
ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد سے یہ رابطے خطے میں بڑھتی ہوئی
کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری بھی ان کوششوں کو
امن کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے۔