Politics
نیتن یاہو کا یو اے ای کا خفیہ دورہ، صدر سے ملاقات
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ روز خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور خلیجی ملک کی قیادت سے ملاقات کی ہے۔
- Reading time
- 7 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 29 ستمبر، 2026، 2:46 AM

Politics
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ روز خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور خلیجی ملک کی قیادت سے ملاقات کی ہے۔

یہ مبینہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے رواں ماہ رپورٹ کیا تھا کہ شیخ محمد بن زاید النہیان نے 7 اکتوبر 2023 سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ حماس اسرائیل کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اخبار کے مطابق یہ اطلاع اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں یا فوج تک نہیں پہنچائی گئی۔ نیو یارک ٹائمز نے بھی اس خبر کی تصدیق اپنی ایک رپورٹ میں کی جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم ان خبروں کی تردید کر چکے ہیں اور ہارٹز اخبار کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کو سخت انتخابی مہم کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے حماس کے 7 اکتوبر کے حملے سے قبل سکیورٹی کی ناکامیوں کی ذمہ داری نیتن یاہو پر عائد کی ہے۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ہارٹز کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے تاہم اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ 2020 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست رابطے برقرار ہیں۔ رائٹرز کو اس سے قبل ایک اماراتی سورس نے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات دیگر ممالک کے ساتھ سکیورٹی امور پر ’’متعلقہ اداروں‘‘ کے ذریعے بات چیت کرتا ہے تاہم یہ معاملات ’’قومی رہنماؤں کی سطح‘‘ پر زیر بحث نہیں آتے۔
رواں سال کے آغاز میں بھی اسرائیلی وزیراعظم اور امارتی صدر کے درمیان ملاقات کی خبریں سامنے آئی تھیں تاہم متحدہ عرب امارات نے اس ملاقات کی تردید کی تھی۔ اس سے قبل مئی میں اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے کہا تھا کہ نیتن یاہو نے خفیہ طور پر خلیجی ملک کا دورہ کیا اور صدر سے ملاقات کی تھی۔ یو اے ای وزارت خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں اسرائیلی وزیراعظم کے کسی خفیہ یا غیر اعلانیہ دورے اور اسرائیلی فوجی وفد کے استقبال سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔
رائٹرز کے مطابق اس ملاقات سے واقف ایک سورس نے اس وقت بتایا تھا کہ نیتن یاہو اور شیخ محمد نے 26 مارچ کو ابوظہبی کے قریب عمان کی سرحد پر واقع نخلستانی شہر العین میں ملاقات کی تھی۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا تھا کہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے بھی جنگ کے دوران کم از کم 2 مرتبہ امارات کا دورہ کیا تھا۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس سارے معاملے کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔
ایران جنگ کے دوران حملوں کی زد میں آنے کے بعد متحدہ عرب امارات نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے ستمبر 2020 میں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ یہ 1994 کے بعد کسی عرب ملک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کا ایک اہم معاہدہ تھا۔ بعد ازاں بحرین اور دیگر ممالک نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم بعض ملاقاتوں کی تفصیلات باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی گئیں۔ نیتن یاہو کا حالیہ دورہ اسی تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل، امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان سکیورٹی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے لیے کام کرنے والے نیدرلینڈز (ڈچ) کے سفارت کاروں کا سفارتی درجہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے اتوار کو کہا کہ اس نے فلسطینی اتھارٹی کے لیے رام اللہ میں نیدرلینڈز کی نمائندگی کرنے والے ڈچ سفارت کاروں کی سفارتی حیثیت ختم کر دی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف نیدرلینڈز کی پابندیوں کے جواب میں کیا گیا ہے، اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر Gideon Saar کا کہنا ہے کہ رام اللہ میں کام کرنے والے ڈچ سفارتکاروں کو 7 روز میں سفارتی دستاویزات واپس کرنی ہوں گی، جس کے بعد ان کے سفارتی مراعات اور استثنیٰ ختم ہو جائے گا۔ اسرائیل نے رواں ماہ کے آغاز میں مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بھی بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ قونصل خانہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ برطانیہ کے نمائندے کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ فیصلہ بھی لندن کی جانب سے یہودی آبادکاروں کی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر پابندی سمیت ایسی ہی دیگر پابندیوں کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔
ڈچ وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن Tom Berendsen نے پیر کو کہا کہ انھیں اس ’’غیر ضروری‘‘ فیصلے پر افسوس ہے اور نیدرلینڈز اپنے ردعمل پر غور کر رہا ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا ہماری عارضی پابندیوں کا ہدف اسرائیل نہیں ہے بلکہ یہ ہماری اس ذمہ داری کے نتیجے میں عائد کی گئی ہیں کہ ہم غیر قانونی بستیوں کی غیر قانونی صورت حال میں کسی طرح حصہ نہ ڈالیں۔ نیدرلینڈز کی جانب سے بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی گزشتہ ہفتے نافذ ہو گئی ہے۔ ایران پاس دو ہفتوں کے ااسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر Gideon Saar نے کہا ’’جو بھی ملک اسرائیل کے خلاف معاندانہ اور یک طرفہ طرزعمل اختیار کرے گا، وہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ اور اہمیت کھو دے گا۔‘‘ اسرائیل نے اگست میں بھی ڈچ سفارت کاروں کو غزہ کے لیے امریکا کی قیادت میں قائم رابطہ کاری مرکز میں داخلے سے روک دیا تھا، جو اسرائیل میں قائم ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے اس اقدام کی وجہ ’’اسرائیل مخالف اقدامات‘‘ کو قرار دیا تھا۔
نیدرلینڈز سمیت کئی ممالک طویل عرصے سے ایسے سفارت کار رکھتے ہیں جو رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اپنی حکومتوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جب کہ ان کی رہائش مشرقی یروشلم میں ہوتی ہے۔ اسرائیل روایتی طور پر ان سفارت کاروں کو تسلیم کرتا رہا ہے اور سفارتی مشنز سے متعلق ویانا کنونشن کے تحت انھیں بعض مراعات بھی دیتا رہا ہے۔ فرانس اور کینیڈا نے بھی رواں ماہ برطانیہ کے ساتھ مل کر غیر قانونی یہودی بستیوں سے آنے والی اشیا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اسرائیل نے ان دونوں ممالک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت کو غزہ اور مغربی کنارے میں گزشتہ برسوں کے دوران اختیار کیے گئے ہولناک اور انسان کش طرزعمل کے باعث اپنے متعدد اتحادیوں سے سفارتی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسرائیلی کابینہ کے دو نمایاں وزرا پر کئی ممالک پابندیاں عائد کر چکے ہیں، جب کہ اسپین، آئرلینڈ اور دیگر ممالک نے بھی غیر قانونی بستیوں سے پیدا ہونے والی اشیا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔