کینیا کی حکومت
نے انڈیا کی بڑی کیمیکل کمپنی ٹاٹا کیمیکلز کو ملک چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے
کہ ’وہ اپنا سامان سمیٹ کر ملک سے نکل جائیں۔‘ کینیا کی حکومت کا مؤقف ہے کہ کمپنی
مقامی صنعت اور روزگار کے فروغ میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کر سکی۔ کینیا کے صدر ولیم
روٹو کے مطابق کمپنی سوڈا ایش کو مقامی سطح پر پراسیس کر کے شیشہ اور دیگر کیمیکل
بنانے کے بجائے اسے برآمد کر رہی تھی۔ صدر روٹو کے مطابق ’حکومت نے کمپنی کی جگہ لینے
کے لیے نئے سرمایہ کار ڈھونڈ لیے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے کینیا میں روزگار کے مزید
مواقع پیدا ہوں گے اور سرمایہ کاری بڑھے گی۔‘
دوسری جانب ٹاٹا
کیمیکلز نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے اور باقی معاملات کے حل
کے لیے ’مناسب قانونی اور ریگولیٹری طریقہ کار کے تحت تعمیری رابطے‘ کے لیے پُرعزم
ہے۔‘ صدر روٹو نے یہ تبصرے کاجیادو کاؤنٹی کے دورے کے دوران کیے، جہاں ٹاٹا کیمیکلز
مگاڈی کا پلانٹ واقع ہے۔ یہ کمپنی جو انڈین کاروباری گروپ ٹاٹا گروپ کا حصہ ہے، جھیل
مگاڈی پر کام کرتی ہے جو کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے تقریباً 120 کلومیٹر (75 میل)
جنوب مغرب میں واقع ہے۔ کمپنی سالانہ
ساڑھے تین لاکھ ٹن سے زیادہ سوڈا ایش برآمد کرتی ہے جسے انڈیا، جنوب مشرقی ایشیا،
مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے دیگر حصوں سمیت مختلف منڈیوں میں بھیجا جاتا ہے۔