Politics
جماعت اسلامی کا ’سپر لانگ مارچ‘ دوسرے روز میں داخل
پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا ’سپر لانگ مارچ‘ دوسرے روز میں داخل ہوگیا ہے۔
- Reading time
- 4 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 22 ستمبر، 2026، 4:31 AM

Politics
پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا ’سپر لانگ مارچ‘ دوسرے روز میں داخل ہوگیا ہے۔

پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا ’سپر لانگ مارچ‘ دوسرے روز میں داخل ہوگیا ہے۔ کراچی سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں روانہ ہونے والا مرکزی ٹرین قافلہ بھی وفاقی دارالحکومت کی جانب بھرپور جوش و خروش کے ساتھ رواں دواں ہے۔ شیڈول کے مطابق سپر لانگ مارچ کا آغاز اتوار 20 ستمبر کو کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن سے ہوا تھا۔ حافظ نعیم الرحمن اور جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد رحمان بابا ایکسپریس کے ذریعے روانہ ہوئی۔ سفر کے دوران سندھ اور پنجاب کے ریلوے اسٹیشنوں پر کارکنوں کی جانب سے قافلے کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جبکہ روہڑی میں حافظ نعیم الرحمن نے کارکنوں سے خطاب بھی کیا۔
جماعت اسلامی کے جاری کردہ پروگرام کے مطابق ٹرین مارچ آج ملتان پہنچے گا، جہاں اس مرحلے کا اختتام ہوگا۔ اس کے بعد 22 ستمبر کو ملتان سے سڑک کے ذریعے قافلہ لاہور کی جانب روانہ ہوگا، جبکہ 23 ستمبر کو لاہور سے جی ٹی روڈ کے راستے اسلام آباد کی طرف مارچ کا آخری بڑا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مرکزی مارچ کے شرکاء 23 اور 24 ستمبر کے دوران اسلام آباد پہنچیں گے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا سے بھی جماعت اسلامی کے کارکنوں نے اتوار کو تاریخی بابِ خیبر، جمرود سے اسلام آباد کی جانب سفر شروع کیا۔ جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے امیر عبدالواسع کی قیادت میں نکلنے والے اس قافلے نے رات باڑہ میں قیام کیا اور آج پشاور کی طرف بڑھنے کا پروگرام ہے، جہاں سے اسے اسلام آباد کی جانب سفر جاری رکھنا ہے۔ بلوچستان کا مرکزی قافلہ بھی صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی قیادت میں منگل 22 ستمبر کو کوئٹہ سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے کا اعلان کرچکا ہے۔ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں مستقل ریلیف فراہم کرنا ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی محدود یا ہدفی سبسڈی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا متبادل نہیں۔ دوسری جانب وفاقی حکومت اس کے برعکس ہدفی سبسڈی کے طریقہ کار کا دفاع کرتی رہی ہے۔
15 ستمبر کو جاری سرکاری بیان میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا تھا کہ موٹر سائیکل، 2 اور 3 پہیوں والی گاڑیوں اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ہدفی ریلیف دیا جا رہا ہے ۔ حکومت کے نزدیک عمومی سبسڈی کے بجائے مستحق طبقات کو براہِ راست ریلیف زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اب تک مذاکرات کے 5 ادوار ہوچکے ہیں، تاہم لانگ مارچ شروع ہونے تک پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حتمی اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی طرف سے ایک نئے عوامی ریلیف پیکیج کی تجویز زیرِ غور آئی ہے اور اسے جماعت اسلامی کی تکنیکی کمیٹی کی منظوری سے مشروط کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹھوس پیش رفت کی صورت میں مارچ میں عارضی وقفے پر غور ہوسکتا ہے، تاہم یہ پیش رفت تاحال کسی حتمی سرکاری معاہدے یا مشترکہ اعلامیے کی شکل اختیار نہیں کرسکی۔
اُدھر اسلام آباد اور راولپنڈی میں آئندہ چند روز کے دوران مختلف سیاسی و احتجاجی مارچوں کے پیشِ نظر سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں 22 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کی تیاری کی گئی ہے، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے اطراف مختلف مقامات پر کنٹینرز بھی رکھے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ممکنہ احتجاجی صورتحال سے نمٹنے کے لیے داخلی راستوں کی نگرانی اور اضافی نفری کی تعیناتی کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے مطالبے پر اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مزید مہلت طلب کرنے سے احتجاجی پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے باضابطہ اعلان تک لانگ مارچ اور احتجاج جاری رکھا جائے گا۔