ایک رپورٹ میں لکھا کہ ٹرمپ نے ڈلاس میں، وسط مدتی انتخابات کے لئے
ریپبلکنز کے کنونشن میں اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ "وسط مدتی انتخابات
کے فوراً بعد" ختم ہو جائے گی۔ ٹرمپ نے امریکیوں سے کہا کہ وہ انتخابات تک
پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں برداشت کریں تاکہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ٹرمپ
نے کہا: "کیا ایران جوہری ہتھیار رکھ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں؛ تو اس کا مطلب یہ
ہؤا کہ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔"
جنگ کے پوشیدہ اخراجات
موڈیز اینالیٹکس (Moody's Analytics) کے ایرانی-امریکی چیف ماہر معاشیات مارک زندی (Mark Zandi) کے اندازے کے مطابق، گذشتہ
ہفتے تک جنگ کے اخراجات ہر امریکی گھرانے کے لئے تقریباً 1650 ڈالر تھے۔ اس رقم
میں سے تقریباً 860 ڈالر توانائی کی اونچی قیمتوں کے لئے، تقریباً 420 ڈالر قرضوں
کی خاطر، اور تقریباً 370 ڈالر فوجی اخراجات سے متعلق ہیں۔ زندی Mark Zandi نے خبردار کیا کہ یہ مالی بوجھ مزید بڑھے گا
اور متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں کو مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تشویش ميں مبتلا منڈیاں
جمعرات کے روز تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی جو
مئی کے بعد سب سے اونچی سطح ہے۔ یوریشیا گروپ (Eurasia Group) کے سینئر تجزیہ کار گریگوری بریو (Gregory Brew) نے کہا کہ یہ اضافہ کسی حد تک
ٹرمپ کے ان بیانات کی وجہ سے ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ انتخابات کے بعد تک
ایران کے معاملے میں پیش رفت کا خواہاں نہیں ہے۔ ایچ ایس بی سی، گولڈمین ساکس (Goldman Sachs) اور بینک آف امریکہ سمیت بڑے
بینکوں نے 2027 کے لئے تیل کی قیمتوں کا اپنا اندازہ تقریباً 85 ڈالر فی بیرل تک
بڑھا دیا ہے۔
عوامی کی بداعتمادی اور پیغام رسانی کا چیلنج
روئٹرز/اپسوس سروے (Reuters/Ipsos survey) سے معلوم ہؤا کہ صرف 31 فیصد امریکی جنگ
کی حمایت کرتے ہیں اور 83 فیصد سمجھتے ہیں کہ جنگ "طویل عرصے تک" جاری
رہے گی۔ ریپبلکن اسٹراٹیجسٹ برٹنی مارٹنز (Brittany Martinez) نے کہا کہ یہ 'پیغام بیچنا'
مشکل ہے کہ 'جنگ کا معاشی درد ایک مختصر مدت کی بھلائی' ہے، کیونکہ یہ رائے
دہندگان کی زندگی کی حقیقت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ بایں حال، وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا
کہ ٹرمپ توانائی کے اخراجات کم کرنے کا پابند ہے اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول
کے ساتھ قیمتیں تنازع سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گی۔ [لیکن وہ یہ نہ کہہ سکا
کہ جس آبنائے کو وہ سات مہینوں کی شدید جنگ کے باوجود بھی نہیں کھول سکا ہے، وہ
کیونکر کھلے گا؟
جنگ کا نئے محاذ تک پھیلاؤ
آبنائے ہرمز پر دباؤ اس وقت سے کسی حد تک کم ہو گیا جب سعودی عرب
نے بحیرہ احمر تک پائپ لائن بڑھا دی، لیکن اس راستے کو یمن کی انصاراللہ تحریک کے
بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔ منگل کے روز انصاراللہ تحریک نے سعودی عرب کی
سرزمین پر اپنے حملے بڑھا دیئے اور توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ اسی اثناء
میں امریکہ کے تیل کے تزویراتی ذخائر رونالڈ ریگن کے دور کے بعد اپنی کم ترین سطح
پر پہنچ گئے ہیں اور حکومت کا قیمتیں نیچے رکھنے کے بنیادی ہتھیار کا میگزین
گولیوں سے خالی ہو چکا ہے!