طویل وقت تک بیٹھے رہنے کی
عادت اور جسمانی سرگرمی میں کمی کینسر کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہوسکتی ہے، تاہم
روزمرہ معمولات میں معمولی تبدیلی بھی اس خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی
ہے۔
برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی
تحقیق کے مطابق روزانہ بیٹھنے کے دورانیے میں صرف 15 منٹ کی کمی کرکے اس وقت کو
کسی بھی معمولی جسمانی سرگرمی میں صرف کیا جائے تو کینسر میں مبتلا ہونے کے خطرے
میں 2 فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔
لندن کالج یونیورسٹی کے محققین نے
اس تحقیق کے دوران 59 ہزار سے زائد افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں
شامل افراد کی اوسط عمر 61 سال تھی، جبکہ ان کی روزمرہ جسمانی سرگرمیوں اور بیٹھنے
کے دورانیے کی نگرانی کلائی پر باندھی جانے والی برقی گھڑیوں کے ذریعے کی گئی۔
محققین نے ان افراد کی صحت کی
صورتحال کا تقریباً 8 سال تک مشاہدہ کیا۔ اس عرصے کے دوران شرکا میں کینسر کے 2385
کیسز سامنے آئے، جس کے بعد ماہرین نے مختلف تجزیاتی طریقوں کے ذریعے جسمانی
سرگرمی، بیٹھنے کے وقت اور کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا۔
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ
جسمانی سرگرمی میں اضافہ اور بیٹھنے کے دورانیے میں کمی مجموعی طور پر کینسر کے
خطرے میں کمی سے وابستہ ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل وقت تک بیٹھے رہنے والے افراد کے
لیے روزمرہ معمولات میں معمولی تبدیلیاں بھی صحت کے حوالے سے مثبت اثرات مرتب
کرسکتی ہیں۔
محققین نے بتایا کہ اگر بیٹھنے کے
معمول کے وقت میں 15 منٹ کی کمی کرکے اس کے بدلے کوئی جسمانی سرگرمی اختیار کی
جائے تو کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ 2 فیصد تک کم ہوسکتا ہے، جبکہ بیٹھنے کے
دورانیے میں 30 منٹ کی کمی سے یہ خطرہ 8 فیصد تک کم ہونے کا امکان سامنے آیا۔
ماہرین کے مطابق اس مقصد کے لیے
لازمی نہیں کہ انسان باقاعدہ اور سخت ورزش کا آغاز کرے، بلکہ روزمرہ زندگی میں
معمولی جسمانی سرگرمی بڑھانا بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ گھر کے لیے اشیائے ضروریہ
خریدنے کے لیے پیدل جانا، مختصر فاصلوں کے لیے پیدل چلنا یا لفٹ کے بجائے سیڑھیوں
کا استعمال ایسی سرگرمیوں میں شامل ہے۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ
جسمانی طور پر زیادہ متحرک رہنے والے افراد میں بعض اقسام کے کینسر کا خطرہ نسبتاً
کم پایا جاتا ہے۔ اس سے قبل ہونے والی مختلف تحقیقات میں بھی جسمانی سرگرمی کو
مثانے، چھاتی، آنتوں، گردوں اور معدے سمیت متعدد اقسام کے کینسر کے کم خطرے سے
منسلک کیا جاچکا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے
نتائج خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم ہیں جو دن کا بڑا حصہ بیٹھ کر گزارتے ہیں،
کیونکہ بیٹھنے کے دورانیے میں معمولی کمی بھی جسمانی سرگرمی بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی
ہے۔