امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے
ناقد ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو 2 ہزار پاؤنڈ وزنی 40
ہزار بم فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔ ٹکر کارلسن کے مطابق کانگریس کے 4 ارکان اس
اقدام کی منظوری دلوانے میں پیش پیش رہے، جبکہ ان ارکان کا شمار اسرائیلی لابی سے
چندہ حاصل کرنے والے نمایاں افراد میں ہوتا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے نیشنل پبلک
ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے ٹکر کارلسن نے کہا کہ ان بموں کی تباہ کن طاقت ہیروشیما
پر گرائے گئے ایٹم بم سے 6 گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بم اسرائیل کو بطور
تحفہ دیے جا رہے ہیں، کیونکہ ان کی قیمت بھی امریکی حکومت ادا کرے گی، جس کے لیے
امریکی کانگریس نے رقم کی منظوری دی ہے۔ ٹکر کارلسن کے مطابق کانگریس کے 4 ارکان
اس اقدام کی منظوری دلوانے میں پیش پیش رہے، جبکہ ان ارکان کا شمار اسرائیلی لابی
سے چندہ حاصل کرنے والے نمایاں افراد میں ہوتا ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق اس معاملے سے
متعلق کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو غیر رسمی طور پر آگاہ کیا جاچکا ہے۔ پیکیج کی
بڑی رقم امریکی غیر ملکی فوجی معاونت کے ذریعے فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں،
تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے زیرِ التوا اسلحہ فروخت پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ بم ماضی میں بھی
اسرائیل کو فراہم کیے جاتے رہے ہیں اور ان کے استعمال پر شہری ہلاکتوں کے خدشات کے
باعث سابق امریکی انتظامیہ نے 2024 میں ایک کھیپ کی ترسیل روک دی تھی۔ امریکی
سیاسی مبصر ٹکر کارلسن نے اس معاملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلحہ پیکیج کی
رقم بالآخر امریکی مالی وسائل سے فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے امریکی کانگریس کے
بعض ارکان کے اسرائیل سے متعلق پالیسی مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔