رپورٹ کے مطابق، شاہ
چارلس سوم King Charles III نے مبینہ تبصرہ (”مطمئن رہیں، ہم جلد ہی انہیں
بھول جائیں گے۔“) شہزادی کے جنازے کے انتظامات پر ایک گرما گرم بحث کے دوران کیا
تھا، جب اسپینسر Spencer نے پرنس ولیم اور ہیری، جن کی عمریں اس وقت 15 اور 12 سال تھیں، کو ڈیانا کے تابوت کے پیچھے
چلنے پر مجبور کئے جانے پر اعتراض کیا تھا۔ اسپینسر Spencer نے لکھا کہ چارلس نے ”شدید غصے“ سے جواب دیا تھا۔ اپنی کتاب میں
اسپینسر Spencer نے اس غصے کو ڈیانا کے خلاف دیرینہ رنجش کی
علامت سے تعبیر کیا ہے۔
برطانوی شہزادی ڈائنا
کے بھائی، ارل اسپینسرEarl Spencer کی سوانح عمری جلد ہی منظرعام
پر آنے والی ہے جس میں شہزادی کے بارے میں سنسنی خیز دعوے کئے گئے ہیں۔ اس کتاب کے
چند اقتباسات سامنے آنے کے بعد، شاہی محل بکنگھم پیلس، کتاب کے مصنف کے ساتھ ایک
غیر معمولی عوامی تنازع میں الجھ گیا ہے۔ برطانوی روزنامے ڈیلی میل کی جانب سے
شائع کئے گئے ۔ اقتباسات میں الزام لگایا گیا ہے کہ شاہ چارلس سوم Charles
III نے 1998ء میں شہزادی ڈیانا کی موت کے بعد کے دنوں میں اسپینسر Spencer سے
کہا تھا، ”مطمئن رہیں، ہم جلد ہی انہیں بھول جائیں گے۔“ شاہی محل نے اس پر سخت
جوابی ردِعمل ظاہر کیا ہے، جو کتابوں پر تبصرہ نہ کرنے کی اس کی دیرینہ پالیسی کے
پیشِ نظر غیر معمولی اقدام ہے۔
اپنے بیان میں، بکنگھم
پیلس نے کہا ہے کہ اگرچہ شاہی محل کی جانب سے اصولی طور پر کتابوں پر تبصرہ نہیں
کیا جاتا ہے، لیکن ”اعلیٰ حضرت اس بات سے باخبر ہیں کہ بھائی کے بچھڑنے کا غم عقل
پر پردہ ڈال سکتا ہے، فیصلے کو متاثر کر سکتا ہے اور یادداشت کو ایسے انداز میں
بدل سکتا ہے جسے دوسرے نہیں پہچان پاتے، یہاں تک کہ اتنے بڑے نقصان کے کئی سال بعد
بھی۔“ شاہی مبصرین، بشمول مجیسٹی Majesty میگزین کی چیف ایڈیٹر انگرڈ سیورڈ Ingrid Sewardنے اس ردِعمل کو بے نظیر قرار دیا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بادشاہ
شدید رنجیدہ تھے اور خاص طور پر اپنے بیٹوں کی خاطر حقائق واضح کرنا چاہتے تھے۔
بادشاہ کے سابق کمیونیکیشن سیکریٹری جولین پین Julian Payne نے کہا کہ یہ مبینہ الفاظ ”بالکل ایسی زبان نہیں
ہیں جسے میں پہچانتا ہوں۔“ انہوں نے محل کے بیان کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ
حکام نے کس قدر شدت سے جواب دینے کی ضرورت محسوس کی۔
اقتباس کے مطابق، شاہ
چارلس سوم Charles III نے مذکورہ بالا مبینہ
تبصرہ، شہزادی ڈیانا کے جنازے کے انتظامات پر ایک گرما گرم بحث کے دوران کیا تھا،
جب اسپینسر نے پرنس ولیم اور ہیری، جن کی عمریں اس وقت 15 اور 12 سال تھیں، کو ڈیانا کے تابوت کے پیچھے چلنے پر مجبور کئے جانے پر
اعتراض کیا تھا۔ اسپینسر نے لکھا کہ چارلس نے ”شدید غصے“ سے جواب دیا تھا۔ اپنی
کتاب میں اسپینسر نے اس غصے کو ڈیانا کے خلاف دیرینہ رنجش کی علامت سے تعبیر کیا
ہے۔ پرنس ہیری پہلے کہہ چکے ہیں کہ کسی بچے کو والدین کے تابوت کے پیچھے چلنے
کیلئے نہیں کہنا چاہئے، اگرچہ بعد میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس کا حصہ بننے پر
خوش تھے۔ اس ہفتے کے اوائل میں، غیر مطبوعہ کتاب، جس کا عنوان ”سوان سانگ: ڈائنا،
مائی سسٹر“
(Swan Song: Diana, My Sister) ہے، اگلے ہفتے ریلیز ہونے سے قبل نیدرلینڈز میں ایک لاری سے چوری
ہونے کی اطلاع ملی تھی۔
حال ہی میں چارلس نے
اسکاٹ لینڈ کے ڈمفریز ہاؤس میں اے آئی انڈسٹری کے لیڈران کے سربراہی اجلاس سے خطاب
کیا۔ اسپینسر کی کتاب پر تنازع کے بعد وہ پہلی بار عوامی سطح پر سامنے آئے ہیں۔ اس
اجلاس میں این ویڈیا، اینتھروپک Anthropic ، گوگل ڈیپ مائنڈ اور اوپن
اے آئی کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ انہوں نے غلط ہاتھوں میں جانے والی اے آئی
کے ”وجودی خطرات“ سے خبردار کیا اور ٹیک لیڈران پر زور دیا کہ جیسے جیسے یہ
ٹیکنالوجی ترقی کرے، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ”انسانیت کی مقدس حیثیت برقرار
رہے۔“ انہوں نے اس لمحے کو آنے والی نسلوں کیلئے فیصلہ کن قرار دیا۔