ایک تازہ قومی سروے میں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی اور ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی سے متعلق
امریکی عوام کی رائے میں واضح اختلاف سامنے آیا ہے۔ فوکس نیوز کے تازہ سروے کے
مطابق امریکی صدر کی مجموعی کارکردگی کو
39 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے منظور کیا جبکہ 61 فیصد نے اسے مسترد کردیا، ایران کے
خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے سے متعلق 60 فیصد امریکی ووٹرز نے اسے غلط قرار دیا
جبکہ 37 فیصد نے فوجی کارروائی کے فیصلے کو درست قرار دیا۔ جون کے سروے میں 58
فیصد ووٹرز نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو غلط کہا تھا، یوں تازہ سروے میں اس
رائے کی شرح میں 2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سروے میں ایران جنگ کے خاتمے سے
متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
70 فیصد ووٹرز نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے پاس ایران جنگ ختم کرنے کے لیے واضح
حکمت عملی موجود نہیں، جبکہ اس رائے میں سیاسی وابستگی کے لحاظ سے بھی نمایاں فرق
سامنے آیا۔ 95 فیصد ڈیموکریٹک، 83 فیصد آزاد اور 43 فیصد ری پبلکن ووٹرز نے
انتظامیہ کی حکمت عملی کو غیر واضح قرار دیا۔ ایران جنگ کے امریکا کی سلامتی پر
ممکنہ اثرات کے بارے میں 47 فیصد ووٹرز نے کہا کہ یہ تنازع مستقبل میں امریکا کو
کم محفوظ بنائے گا جبکہ 32 فیصد کے خیال میں جنگ کے نتیجے میں امریکا زیادہ محفوظ
ہوگا۔ 20 فیصد ووٹرز نے کہا کہ اس تنازع سے امریکا کی سلامتی کی صورتحال پر کوئی
خاص فرق نہیں پڑے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مختلف
شعبوں میں کارکردگی کے بارے میں بھی سروے میں الگ الگ اعداد و شمار سامنے آئے۔
امیگریشن کے معاملے پر 43 فیصد ووٹرز نے ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری دی، خارجہ
پالیسی کے معاملے میں یہ شرح 37 فیصد جبکہ مہنگائی کے معاملے میں صرف 24 فیصد رہی۔
سروے کے مطابق امریکی عوام کے لیے روزمرہ زندگی کے اخراجات اور مہنگائی سب سے اہم
مسئلہ بن کر سامنے آئے۔ 34 فیصد ووٹرز نے زندگی گزارنے کے اخراجات کو ملک کا سب سے
اہم مسئلہ قرار دیا جبکہ 14 فیصد نے معیشت اور روزگار کو ترجیح دی۔ فوکس نیوز کے
ایک ہی سروے میں 61 فیصد ووٹرز نے پٹرول کی قیمتوں کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا،
جبکہ 62 فیصد نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو بڑا مسئلہ کہا۔
دوسری جانب رائٹرز اور اِپسوس کے
حالیہ سروے میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجموعی منظوری کی شرح 35 فیصد ریکارڈ
کی گئی، جو گزشتہ سروے کی 33 فیصد شرح سے معمولی زیادہ ہے۔ اس سروے میں 63 فیصد
امریکیوں نے امریکی صدر کی کارکردگی سے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ رائٹرز اور
اِپسوس کے سروے میں کانگریس کے لیے عمومی انتخابی ترجیح سے متعلق 44 فیصد افراد نے
ڈیموکریٹک امیدواروں جبکہ 37 فیصد نے ری پبلکن امیدواروں کی حمایت کا اظہار کیا۔
یہ اعداد و شمار مختلف سرویز کے درمیان موجود فرق کو بھی ظاہر کرتے ہیں کیونکہ
سوالات، نمونے اور سروے کے طریقہ کار مختلف ہونے کے باعث نتائج میں فرق ہوسکتا ہے۔
فوکس نیوز کا تازہ سروے 11 سے 14
ستمبر 2026 کے دوران 1,211 رجسٹرڈ ووٹرز سے کیا گیا، جس میں نمونے کی ممکنہ غلطی
کی شرح 3 فیصد تک بتائی گئی ہے۔ دوسری جانب رائٹرز اور اِپسوس کا سروے بھی ستمبر
میں کیا گیا۔ دونوں سرویز ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران جنگ کئی ماہ سے
جاری ہے اور جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں، فوجی دباؤ اور امریکی معیشت پر پڑنے
والے اثرات بھی امریکی سیاسی بحث کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔