عالمی ادارہ (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ رواں سال یورپ پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم وسطی
بحیرہ روم کے راستوں پر مہاجرین کی ہلاکتوں کا سلسلہ بدستور بڑھ رہا ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق، رواں سال
تقریباً 60 ہزار تارکین وطن اور پناہ گزین سمندری راستے سے یورپ پہنچے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال اسی عرصہ کے دوران یورپ آنے والے 98,040 افراد کے مقابلے
میں 39 فیصد کم ہے۔ سمندری راستے سے یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران کم از
کم 2,292 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں جبکہ گزشتہ
سال اسی مدت میں یہ تعداد 1,999 تھی۔ 'آئی او
ایم' کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ Amy Pope نے
کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار بیک وقت دو کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں سمندری راستے سے یورپ پہنچنے
والے افراد کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن محفوظ مستقبل کی تلاش میں لوگ اب بھی تشویش
ناک تعداد میں ہلاک اور لاپتا
ہو رہے ہیں۔
اٹلی اور یونان آنے والوں میں کمی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ، یورپ آنے والے تارکین وطن کی
تعداد میں نمایاں ترین کمی وسطی بحیرہ روم کے راستے اٹلی پہنچنے
والوں میں ریکارڈ کی گئی جن
کی تعداد 48,231 سے کم ہو کر 21,393 رہ گئی۔ تاہم
اس راستے پر ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جو 844 سے بڑھ کر 996 ہو گئی۔ 20,428 افراد یونان پہنچے
جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 25,427 تھی۔ مشرقی بحیرہ روم کے راستے سے یونان جانے
والوں ہلاکتیں 284 سے بڑھ کر 417 ہو گئیں۔ سپین
پہنچنے والے لوگوں کی تعداد 16,794 رہی جو بحراوقیانوس اور مغربی بحیرہ روم کے
راستوں سے آئے۔ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 22,855 تھی۔ تاہم
اس راستے پر ہلاکتوں کی تعداد بدستور بلند رہی جہاں 879 افراد پانی کی نذر ہو
گئے۔ ادارے کے مطابق، بہت سے
بحری جہازوں کے ڈوبنے اور لوگوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔
اس لیے ہلاکتوں کی حقیقی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
محفوظ اور باقاعدہ ہجرت
تارکین وطن کو
سمندر میں روکنے کا سلسلہ بھی بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ 'آئی
او ایم' کی جانب سے لیبیا کے ساحلی محافظوں کے فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد
پر بتایا گیا ہے کہ جنوری سے ستمبر کے وسط تک 17,067 تارکین وطن کو
سمندر میں روک کر لیبیا واپس بھیج دیا گیا۔ ایمی
پوپ Amy
Pope نے کہا ہے کہ ایسے ہر عدد کے پیچھے ایک انسان، ایک خاندان اور ایک
برادری موجود ہے۔ یورپ کی جانب
آمد میں کمی کے باوجود ہلاکتوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تارکین وطن مزید
خطرناک راستے اختیار کر رہے ہیں۔ اس
مسئلے سے نمٹنے کے لیے مسلسل بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے جو انسانی جانیں
بچائے، نقل مکانی کرنے والے افراد کا تحفظ کرے، انسانی سمگلنگ اور استحصال کا
مقابلہ کرے اور محفوظ اور باقاعدہ ہجرت کے راستے وسیع کرنے میں مدد دے۔ 'آئی او ایم' تارکین وطن
کے آبائی ممالک، عبوری منازل اور ان کی منزل مقصود بننے والے ممالک میں حکومتوں،
شراکتی اداروں اور مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے سے نمٹ رہا ہے۔ موثر تحفظ، رضاکارانہ واپسی اور معاشرے میں
بحالی کے لیے معاونت، باقاعدہ ہجرت کے راستوں میں توسیع اور ان پر خطرات میں کمی
لانا اس کوشش کا مرکز ہے۔