ہمارا سورج کائنات کا ایک ایسا عظیم الشان اور دیوقامت
ستارہ ہے جس کی وسعت اور حجم کا اندازہ لگانا انسانی عقل کے لیے حیران کن ہے۔ اگر
سورج کو ایک خالی فٹ بال مان لیا جائے، تو اس کے اندر تقریباً 13 لاکھ زمینیں
آسانی سے سما سکتی ہیں。 یہ
غیر معمولی حجم سورج کی اس زبردست کشش ثقل کا سبب ہے جس نے ہماری زمین سمیت پورے
نظامِ شمسی کے سیاروں کو اپنے گرد ایک مخصوص مدار میں جکڑ رکھا ہے۔ زمین سے
تقریباً 15 کروڑ کلومیٹر دور ہونے کے باوجود، اس دیو ہیکل ستارے کی روشنی اور تپش
ہی زمین پر زندگی کی بقا کی ضامن ہے۔
اگر سورج نہ ہوتا تو ہماری زمین اندھیرے اور شدید ترین
سردی کی لپیٹ میں آ کر ایک بنجر اور مردہ سیارہ بن جاتی۔سورج صرف حجم کے لحاظ سے
ہی بڑا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا قدرتی نیوکلیئر پاور ہاؤس ہے جو ہر سیکنڈ میں
کروڑوں ٹن ہائیڈروجن کو ہیلیئم میں تبدیل کرتا ہے۔ اس عمل کو نیوکلیئر فیوژن کہتے
ہیں، جس کے نتیجے میں ناقابلِ یقین حد تک توانائی، روشنی اور گرمی خارج ہوتی ہے۔
اس کے مرکزکا درجہ حرارت تقریباً 1.5 کروڑ ڈگری سیلسیس ہے، جو اس کی بے پناہ طاقت
کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کائنات کے اربوں ستاروں کے مقابلے میں اگرچہ سائنسدان
اسے ایک درمیانے سائز کا ستارہ مانتے ہیں، لیکن ہمارے نظامِ شمسی کا 99.8 فیصد وزن
اکیلے سورج کا ہے، جو اسے ہمارے پورے فلکیاتی نظام کا سب سے طاقتور اور مرکزی وجود
بناتا ہے۔