جاپان کی حکومت نے وزیراعظم سانائے تاکائچی کے
مہنگے پالیسی منصوبوں کے لیے مالی وسائل تلاش کرنے کی غرض سے سرکاری اخراجات کے
جائزے کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئے منصوبے کے تحت اربوں ڈالر کے سرکاری فنڈز اور سبسڈیز کی جانچ
پڑتال کی جائے گی تاکہ غیر ضروری اخراجات میں کمی اور دستیاب مالی وسائل کو بہتر
انداز میں استعمال کیا جاسکے۔ برطانوی
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جاپان کا یہ اقدام امریکا کے محکمہ برائے حکومتی
کارکردگی سے متاثر ہوکر شروع کیے گئے منصوبے کا حصہ ہے۔
اس سے قبل رواں سال خصوصی ٹیکس رعایتوں کا جائزہ
لیا گیا تھا، تاہم وزارتوں کی جانب سے تقریباً 120 ٹیکس رعایتوں کی جانچ کے باوجود
صرف 3 رعایتیں ختم کرنے کی تجاویز سامنے آئی تھیں۔محدود نتائج کے باعث حکومت پر
اخراجات میں کمی کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ جاپانی حکومت اپریل 2027 سے اشیائے خورونوش پر
کھپت کے ٹیکس میں مجوزہ کمی کے لیے مالی وسائل تلاش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ دفاعی اخراجات اور صنعتی پالیسیوں کے
لیے بھی زیادہ رقوم درکار ہیں۔
جاپان کی وزیر خزانہ ساتسوکی کاتایاما نے پریس
کانفرنس میں کہا کہ حکومتی اخراجات کا جائزہ لینے کا یہ منصوبہ ایسا بجٹ اور ٹیکس
نظام تشکیل دینے کے لیے ضروری ہے جو تاکائچی حکومت کے مضبوط معیشت کے ہدف اور مالی
استحکام، دونوں کو یقینی بنا سکے۔ تازہ
جائزے میں حکومت کے 201 خصوصی مقاصد کے فنڈز کو شامل کیا جائے گا، جن میں آئندہ
مالی سال کے اختتام تک مجموعی طور پر تقریباً 7 ٹریلین ین، یعنی 44.35 ارب ڈالر کے
مالی ذخائر موجود ہونے کا تخمینہ ہے۔ منصوبے
کے تحت سرکاری فنڈز میں غیر استعمال شدہ یا طویل عرصے سے پڑی رقوم قومی خزانے میں
واپس لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے
علاوہ سبسڈی پروگراموں کی لاگت اور افادیت کا سختی سے جائزہ لیا جائے گا، جس میں
بیرونی ماہرین کی مدد اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو اہمیت دی جائے گی۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپانی
حکومت کے اخراجات میں اضافے کے منصوبوں کے باعث ملکی مالیاتی صورتحال سے متعلق
خدشات بڑھ رہے ہیں۔
جاپان کے 10 سالہ سرکاری بانڈز پر منافع کئی
دہائیوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکا ہے، جس کی ایک وجہ یہ خدشہ ہے کہ
حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ سکتے ہیں۔جائزے کے نتائج سال
کے اختتام پر ہونے والے ٹیکس اصلاحات اور بجٹ مذاکرات میں شامل کیے جانے کی توقع
ہے، حکومت کو انتخابی وعدوں کی تکمیل کے لیے مالی وسائل کی وضاحت کرنے کے ساتھ
سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔جاپانی حکومت کے ایک
عہدیدار کے مطابق، وزیراعظم تاکائچی کو اس جائزے سے خاصی امیدیں ہیں کیونکہ ان
فنڈز میں بڑی رقوم موجود ہیں جو حکومتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کا اہم ذریعہ بن
سکتی ہیں۔