پاکستان
تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے تناظر میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملک کی
اہم شاہراہوں اور موٹرویز کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا
ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے
گئے ان اقدامات کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنا ہے۔
موٹروے ایم ون کو اسلام
آباد ٹول پلازہ سے لے کر چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف سے مکمل بند کر دیا گیا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد ٹول پلازہ، ترنول، سنگجانی، براہمہ باہتر،
برہان، ہزارہ موٹروے، غازی اور چھچھ انٹرچینج پر ٹریفک کی آمدورفت تاحکم ثانی معطل
رہے گی۔ اسی طرح موٹروے ایم 14 کو بھی ہکلہ سے کنڈل تک ہر
قسم کی آمدورفت کے لیے سیل کر دیا گیا ہے۔ اس روٹ پر آنے والے تمام انٹرچینج بشمول
فتح جنگ، پنڈی گھیب، کھڑپہ، تراپ، داؤد خیل، کوٹ بیلیاں، عیسیٰ خیل اور کنڈل بھی
بند کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی طرح کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔
جی ٹی روڈ این 5 کو بھی
اٹک خورد کے مقام پر دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ٹریفک کی
بندش کے ان اقدامات سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ انتظامیہ نے
شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ ان شاہراہوں کی بندش
کا فیصلہ سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ تمام مذکورہ راستے
تاحکم ثانی اسی طرح بند رہیں گے اور ان کو کھولنے کا فیصلہ حالات کا جائزہ لینے کے
بعد ہی کیا جائے گا تاکہ عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفر پر نکلنے سے
قبل موجودہ صورتحال اور راستوں کی تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔
حکام کے مطابق اہم مقامات
پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کا مقصد کسی بھی قسم کے احتجاجی قافلوں کو دارالحکومت یا
دیگر حساس علاقوں کی طرف بڑھنے سے روکنا ہے۔ انتظامیہ نے ہدایت کی ہے کہ سیکیورٹی انتظامات میں کسی قسم کی غفلت
نہیں برتی جائے گی اور شاہراہوں پر نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ امن
و امان کی صورتحال برقرار رہے۔