پاکستانی مؤقف کے مطابق افغان
طالبان کی جانب سے پاکستانی کارروائیوں میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کا
مقصد افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد نیٹ ورکس سے عالمی توجہ ہٹانا
ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد
نے پاکستان پر کنڑ اور پکتیکا میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے
ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کنڑ میں شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے جبکہ پکتیکا میں شہری
املاک کو نقصان پہنچا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ جب بھی افغان سرزمین سے سرگرم
پاکستان مخالف دہشتگرد نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو طالبان حکومت اسی نوعیت
کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے پاکستان کو جارح قرار دینے اور عالمی توجہ
دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق طالبان
حکومت ہر انسداد دہشتگردی کارروائی کو بین الاقوامی سطح پر اٹھا کر پاکستان پر
دباؤ بڑھانے اور افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش
کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے حوالے سے پاکستان کا کہنا ہے کہ
ٹی ٹی پی نے 2025 میں سرحد پار 600 سے زائد حملے کیے، جبکہ افغانستان میں ٹی ٹی پی
سمیت 20 سے زیادہ بین الاقوامی اور علاقائی دہشتگرد تنظیمیں اب بھی سرگرم ہیں۔
پاکستان کے مطابق افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشتگردی کے خطرے کے عملی شواہد بھی
سامنے آتے رہے ہیں۔ 2026 میں خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور سندھ میں متعدد حملوں
میں ملوث افراد کو افغان شہری قرار دیا گیا، جن میں 26 جنوری کو ڈیرہ اسماعیل خان
میں شادی کی تقریب پر حملہ کرنے والا خودکش بمبار عبدالرحمان، 6 فروری کو اسلام
آباد کے ترلائی امام بارگاہ حملے کا گرفتار ماسٹر مائنڈ، 16 فروری کو باجوڑ کے
ملنگی پوسٹ حملے میں ملوث احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر، 27 جون کو کراچی میں
رینجرز کیمپ حملے میں ملوث عثمان علی اور دو دیگر افراد جبکہ 18 ستمبر کو کوہاٹ
پولیس لائنز مسجد حملے کا خودکش بمبار مطیع اللہ شامل ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ 2025 میں
افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کے نتیجے میں 1,200 سے زائد پاکستانی جاں بحق ہوئے
جبکہ ملک میں 5,300 سے زیادہ دہشتگردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ پاکستان نے بارہا ٹی
ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی، داعش خراسان اور ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ سمیت دیگر
گروہوں کی افغان سرزمین پر موجودگی کا معاملہ اٹھایا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق شہریوں کا
نقصان کسی صورت دہشتگردی کے لیے ڈھال نہیں بننا چاہیے اور شہری ہلاکتوں کے دعوؤں
کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے، تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ افغان سرزمین پر
دہشتگرد نیٹ ورکس کو کارروائیوں کے لیے جگہ کیوں میسر ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری
سے طالبان حکومت سے قابل تصدیق انسداد دہشتگردی اقدامات، شفافیت اور جواب دہی کا
مطالبہ کرنے پر زور دیا ہے۔