جاپان میں غیر ملکیوں کے مستقل قیام کے قوانین سخت
جاپان نے غیر ملکی شہریوں کے مستقل رہائشی اجازت نامے کے حصول کے قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت
- Reading time
- 2 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 25 ستمبر، 2026، 12:44 PM

جاپان نے غیر ملکی شہریوں کے مستقل رہائشی اجازت نامے کے حصول کے قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت

جاپان نے غیر ملکی شہریوں کے مستقل رہائشی اجازت نامے کے حصول کے قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت درخواست گزاروں کو جاپان کی اوسط آمدن سے زیادہ سالانہ گھریلو آمدن، جاپانی زبان پر عبور اور پنشن کی ادائیگی سے متعلق اضافی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ الجزیرہ کے مطابق نئی شرائط کا مرحلہ وار نفاذ یکم اکتوبر سے شروع ہوگا، جبکہ آمدن سے متعلق شرط اپریل سے جمع کرائی گئی درخواستوں پر بھی لاگو ہوگی۔ مستقل رہائش کے امیدواروں کو 30 سال کی پنشن ادائیگی کے مساوی رقم موجود ہونے کا بھی ثبوت دینا ہوگا۔ جاپان کی امیگریشن سروسز ایجنسی کے مطابق تبدیلیوں کا مقصد غیر ملکیوں کو خود کفیل اور مستحکم زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔
جاپان میں غیر ملکی باشندوں کی تعداد 2025 کے اختتام تک ریکارڈ 41 لاکھ 20 ہزار تک پہنچ گئی تھی، جو مجموعی آبادی کا قریباً 3 فیصد ہے۔ دوسری جانب ملک کو کم ہوتی شرح پیدائش اور افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کے لیے طویل المدتی قیام مشکل ہونے سے جاپان کی افرادی قوت کی ضروریات اور امیگریشن پالیسی کے درمیان توازن کا سوال مزید اہم ہوگیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق جاپان میں امیگریشن پہلے ہی سیاسی بحث کا اہم موضوع بن چکی ہے اور حالیہ عرصے میں غیر ملکیوں کی مزید آمد کے حوالے سے عوامی مخالفت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔