امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور
لڑائی ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی امن تجویز مسترد کردی، جبکہ امریکی حکام کے
مطابق نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری کا امکان موجود
ہے۔ رائٹرز اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کے مطابق ایران نے قطر کے ذریعے امریکا
تک اپنی تجویز پہنچائی تھی، جس میں آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے امریکی بحری ناکہ
بندی ختم کرنے، ایرانی اثاثوں کا کچھ حصہ منجمد حالت سے نکالنے اور ایرانی تیل کی
برآمدات پر پابندیوں میں نرمی کی شرائط شامل تھیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ
کھولنے کا فیصلہ ایران کی شرائط پوری ہونے سے مشروط ہے اور موجودہ تعطل کا واحد
راستہ مذاکرات کے ذریعے حل ہے۔ ان کے مطابق ثالثوں نے ابھی تک ایران کو امریکی
جانب سے اس تجویز کو مسترد کیے جانے کا باضابطہ پیغام نہیں پہنچایا، اس لیے تہران
ثالثوں کے حتمی مؤقف سے آگاہ کیے جانے کا منتظر ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے گزشتہ ہفتے
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امن تجویز پیش کی تھی۔ عراقچی نے کہا تھا
کہ امریکی رضامندی کی صورت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور علاقائی لڑائی
روکنے کے لیے 7 روزہ عمل شروع ہوسکتا ہے، جس کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے وسیع
تر مذاکرات کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب وال اسٹریٹ
جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ کو شبہ ہے کہ ایران امریکی
مطالبات تسلیم کرے گا اور انہوں نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی
انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری کا امکان ہے۔ تاہم حکام کے مطابق مذاکرات
جاری رہنے کے دوران امریکی صدر کا مؤقف تبدیل بھی ہوسکتا ہے اور دوبارہ حملوں کی
نوعیت ابھی واضح نہیں۔ ایرانی حکام نے جوہری پروگرام کے معاملے پر کسی لچک کا
عندیہ نہیں دیا۔ ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکا کی جانب
سے امن تجویز قبول کیے جانے کی صورت میں بھی ایران یورینیم افزودگی یا افزودہ
یورینیم ملک سے باہر بھیجنے سمیت اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جوہری پروگرام سمیت
دیگر معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم وہ دباؤ یا دھمکی قبول نہیں کرے گا۔
ان کے بقول ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن دباؤ، دھمکیوں اور حملوں کے خلاف اپنا دفاع
کرے گا۔ رائٹرز کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران تیل کی ترسیل
متاثر ہوئی ہے اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے
بعد ایران اور اس کے اتحادیوں کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔