وفاقی
حکومت نے توشہ خانہ کے قواعد مزید سخت کرتے ہوئے نئے قوانین نافذ کرنے کا
نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ کابینہ ڈویژن نے توشہ
خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن رولز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق صدر
اور وزیر اعظم کے علاوہ تحائف وصول کرنے پر حوصلہ شکنی ہوگی، توشہ خانہ میں موجود
اور موصول ہونے والے تمام تحائف کی نیلامی ہوگی جبکہ نیلامی کی رقم پسماندہ علاقوں
میں بچیوں کی تعلیم پر خرچ ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ہر
مالی سال توشہ خانہ میں موصول تمام تحائف کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوگا، تمام تحائف کھلی
عوامی نیلامی میں فروخت ہوں گے، ثقافتی، تاریخی اور سفارتی حساس تحائف نیلام نہیں
ہوں گے، نیلامی سال میں 2 بار ترجیحاً اور کم از کم ایک بار ضرور ہوگی، سرکاری عہدیداران
اور ان کے خاندان نیلامی میں حصہ نہیں لے سکیں گے، تحائف کی نیلامی کی براہ راست
میڈیا کوریج ہوگی۔ نئے قوانین کے مطابق
تحائف سے متعلق فیصلوں کیلیے سیکریٹری کابینہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم ہوگی،
خزانہ، خارجہ، قانون اور ثقافت ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹریز شامل ہوں گے، کمیٹی
فیصلہ کرے گی کہ کون سے تحائف نیلام اور کون سے تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔
’سفارتی آداب پر تحفہ
لینا ناگزیر ہو تو یہ 30 دن کے اندر توشہ خانہ میں جمع کروانا لازم ہوگا۔ بیرون
ملک دورے کی صورت میں واپسی کے 30 دن میں تحفہ جمع کروانا ہوگا جبکہ الگ جہاز سے
آنے والے تحفے کیلیے 60 دن کی مہلت ہوگی۔ گریڈ 1 سے 4 کے ملازمین نقد انعام رکھ
سکیں گے۔ مقررہ مدت میں تحفہ جمع نہ کروانے پر عدالت میں شکایت درج ہوگی۔‘ نوٹیفکیشن
کے مطابق تحائف کی مارکیٹ ویلیو ایف بی آر اور نجی تخمینہ کار طے کریں گے، دونوں
قیمتوں میں 25 فیصد سے زیادہ فرق پر تیسرے تخمینہ کار کی رائے حتمی ہوگی، مصنوعی
ذہانت (اے آئی) کو بھی حوالہ قیمت کیلیے استعمال کیا جا سکے گا، ہتھیاروں کی قیمت
پی او ایف واہ طے کرے گی۔ ’تحائف کی حفاظت گریڈ 20 کے افسر کے سپرد
ہوگی۔ توشہ خانہ اسٹور روم میں سی سی ٹی وی اور تالہ بندی لازمی قرار دے دی گئی۔
تمام تحائف کا ریکارڈ اور تصویر ویب پورٹل پر شائع کی جائے گی۔ پورٹل پر تحفہ دینے
والی شخصیت اور ملک کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا۔‘