ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران واشنگٹن نے تہران پر
معاشی اور فضائی دباؤ مزید سخت کرنے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ
ٹرمپ نے ایران سے متعلق آئندہ کے اقدامات پر فیصلہ سازی کے مرحلے میں ہونے کا عندیہ
دیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ 23
ستمبر سے ایرانی ایئرلائنز کو عالمی سطح پر فضائی خدمات کے حصول میں شدید مشکلات
کا سامنا ہوگا۔ ان کے مطابق اگر کوئی ایئرپورٹ ایرانی طیاروں کو لینڈنگ یا ایندھن
کی سہولت فراہم کرتا ہے یا ایرانی ایئرلائنز کے ٹکٹ فروخت کرتا ہے تو متعلقہ ادارے
کو امریکی ڈالر کے مالیاتی نظام سے خارج کیے جانے کی پابندی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اس اقدام کے تحت ایرانی فضائی کمپنیوں کو بین
الاقوامی فضائی آپریشن جاری رکھنے کے لیے درکار مختلف سہولیات اور خدمات محدود
ہونے کا امکان ہے۔ امریکی حکومت پہلے ہی ایرانی فضائی شعبے سے متعلق متعدد اداروں
پر پابندیاں عائد کرچکی ہے، جس سے ایرانی ایئرلائنز کی بیرونِ ملک سرگرمیاں مزید
متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے
معاملے پر کہا ہے کہ وہ اس وقت فیصلہ سازی کے مرحلے میں ہیں اور مستقبل قریب میں
بڑے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے بارے میں مختلف آپشنز زیر غور
ہیں، جن میں معاشی دباؤ جاری رکھنا، ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا یا مزید سخت
کارروائی شامل ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ
تہران کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنا ہوگا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے ایرانی صدر سے
ملاقات کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے ساتھ
ساتھ آبنائے ہرمز، خطے میں فوجی سرگرمیوں اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے بھی
صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ ایرانی حکام نے بھی کسی نئے امریکی حملے کی صورت
میں جوابی کارروائی کے انتباہات دیے ہیں، جبکہ سفارتی رابطوں کا راستہ مکمل طور پر
بند نہیں ہوا۔ ‘
ادھر ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے
کہا ہے کہ ایران نے قطری ثالثوں کے ذریعے اپنی امن شرائط امریکہ تک پہنچا دی ہیں،
اور ان کا مؤقف ہے کہ ان شرائط کو قبول کرنا امریکہ کے اپنے مفاد میں ہے۔
امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کے تحت تصفیے پر بات چیت کے لیے مقرر کردہ 60 روزہ
مدت گزشتہ ماہ بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئی تھی، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری
تجارت میں خلل توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنا ہوا ہے۔ رضائی نے ہفتے کے
روز ایکس پر لکھا کہ مذاکرات کے آغاز کے لیے ایران کی مقرر کردہ سات شرائط امریکی
انتظامیہ تک پہنچا دی گئی ہیں، اور تہران کا پیغام واضح اور غیر مبہم ہے کہ اگر
واشنگٹن اپنے پیدا کردہ بحران سے نکلنا اور مزید الجھنے سے بچنا چاہتا ہے، تو اس
کے پاس ایران کے حقوق تسلیم کرنے اور اس کی شرائط قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ
نہیں۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری رضائی
نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ان شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا
خاتمہ، ایران کے منجمد فنڈز کی بحالی، اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔
ایرانی حکام قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ وہ خطے سے امریکی افواج کے انخلا اور 28
فروری کو کیے گئے امریکی و اسرائیلی حملوں کے معاوضے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
رضائی نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی دھمکیاں کوئی نتیجہ نہیں دیں گی، اور ایران ایک
فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ امید
ہے کہ جنگ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے، اور اشارہ دیا کہ ایران معاہدہ کرنا
چاہتا ہے۔ تاہم اگلے ہی روز انہوں نے دوبارہ دھمکی دی کہ اگر تنازع ان کی شرائط پر
ختم نہ ہوا تو وہ ایرانی قیادت کو “صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے”۔ امریکی فوج نے جمعہ
کے روز انکشاف کیا کہ تقریباً سات ماہ سے جاری اس تنازع کی لاگت 43.6 ارب ڈالر تک
پہنچ چکی ہے، جس میں سے تقریباً دو تہائی رقم ختم ہونے والے گولہ بارود کی بھرپائی
پر خرچ ہوئی۔ بلومبرگ کے مطابق وسیع پیمانے پر رپورٹ ہونے والی گولہ بارود کی قلت
امریکی اتحادیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی میں کئی سال کی تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔
ٹرمپ اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ تنازع کے باعث امریکہ
کے پاس میزائلوں اور بموں کی کمی ہوئی ہے۔