امریکا
میں اہم وسط مدتی انتخابات (مڈ ٹرم الیکشن) آئندہ منگل 3 نومبر کو منعقد ہوں گے،
جن کے حتمی نتائج سے یہ فیصلہ ہوگا کہ امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کس
سیاسی جماعت کا مکمل کنٹرول حاصل ہوگا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اپنے سیاسی و
انتظامی منصوبوں پر عمل درآمد کرنا آئندہ دو سالوں کے دوران کتنا آسان یا مشکل
ثابت ہوگا۔
اس
وقت امریکی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کو 53 جبکہ ڈیموکریٹس کو 47 نشستوں کے ساتھ
برتری حاصل ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹک
پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اپنی نشستوں کی تعداد میں نمایاں
اضافہ کرنا ہوگا۔ دوسری جانب، حالیہ سیاسی سرویز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی
مقبولیت کی شرح اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے ری پبلکنز جماعت کے
لیے ان انتخابات میں چیلنجز اور مشکلات بڑھنے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ان
انتخابات کے نتائج نہ صرف امریکی کانگریس میں سیاسی طاقت کا توازن طے کریں گے بلکہ
یہ ٹرمپ انتظامیہ کی داخلی و خارجی پالیسیوں، اہم قانون سازی اور آئندہ دو سال کی
مجموعی ملکی و سیاسی سمت پر بھی انتہائی گہرے اور دوررس اثرات مرتب کریں گے۔