اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج اور
لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں چیف جسٹس نے
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسے آئینی بحران سے تشبیہ دیتے ہوئے لارجر بینچ
تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شہری وقاص احمد کی جانب سے دائر
درخواست پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سماعت کی، سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل
نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے احتجاج کا اعلان
کیا ہے اور اس کو اسلام آباد لانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس سے شہریوں اور تاجر
برادری کا روزگار شدید متاثر ہوگا۔
وکیل نے اخبارات کے تراشے اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات پیش کرتے ہوئے نکات
اٹھائے، اور ماضی کے احتجاج، رینجرز اہلکاروں کی ہلاکتوں اور 240 ملین روپے کے مالی
نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے وکیل نے کہا کہ اس بار بھی وزیراعلیٰ سرکاری مشینری کے
ہمراہ اسلام آباد آنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، احتجاج کا بنیادی مقصد عدالتوں
پر دباؤ ڈال کر ریلیف حاصل کرنا ہے، حالانکہ 190 ملین پاؤنڈ کیس سمیت دیگر اپیلیں
اور متعلقہ مقدمات پہلے سے ہی عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔
وکیل نے وفاقی وزارت داخلہ کا خط بھی پیش کیا اور کہا کہ ’آئین میں عدلیہ کی
آزادی کا واضح تصور موجود ہے، کسی سزا یافتہ مجرم کے لیے احتجاج کے ذریعے عدالتی ریلیف
حاصل کرنے کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں، لہذا اس احتجاج کو روکا جائے‘، اس پر چیف
جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ ’کیا واقعتاً وزیراعلیٰ سرکاری مشینری کے
ہمراہ اسلام آباد آ رہے ہیں؟‘ جس پر وکیل نے مثبت میں جواب دیا۔
بتایا گیا ہے کہ معاملے کی حساسیت اور آئینی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے چیف
جسٹس نے اس کیس کی سماعت کے لیے ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا حکم دیا، عدالت
نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو نوٹس جاری کر دیئے، چاروں صوبوں کے آئی جیز اور ایڈووکیٹ
جنرلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، اسلام
آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی احتجاج سے متعلق اس اہم درخواست پر مزید سماعت 10
ستمبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔