معروف امریکی اداکارہ سوسن
سارینڈن Susan Sarandon کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر
اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار کرلیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق سوسن سارینڈن Susan Sarandon نے احتجاج کے دوران امریکا سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو فراہم کی
جانے والی فوجی امداد روک دی جائے۔ یہ احتجاج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس
کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تقریر کے موقع پر کیا گیا۔ دوسری جانب
نیویارک میں ایک گروپ سے تعلق رکھنے والے آرتھوڈوکس یہودی افراد نے بھی اسرائیلی
وزیراعظم کی تقریر کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے فلسطینیوں کے حق میں نعرے لگائے
اور اسرائیل کی پالیسیوں پر اعتراضات کا اظہار کیا۔
ادھراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قابض صہیونی ریاست
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی آمد اور خطاب کے دوران باہر شدید
احتجاج دیکھنے میں آیا جس میں مظاہرین نے اسرائیلی حکومت اور ان کی فوج کے خلاف
سخت نعرے بازی کی اور نسل کشی پر اپنے شدید غصے کا اظہار کیا۔
احتجاجی مظاہرے کے دوران
شرکا نے نیتن یاہو کا ایک پتلا تیار کیا تھا جسے قیدیوں کا لباس پہنایا گیا تھا
اور اس پر شیطان کا نام درج تھا۔ مظاہرین نے اس علامتی پتلے کو پھانسی دے کر
اسرائیلی وزیراعظم کی پالیسیوں کے خلاف اپنی نفرت اور شدید ناپسندیدگی کا کھل کر
اظہار کیا۔ احتجاج میں شامل افراد نے پلاسٹک سے بنے خنزیر کے سر کو ایک ڈنڈے پر
نصب کر رکھا تھا جس پر نیتن یاہو کی عرفیت بی بی لکھی ہوئی تھی۔ مظاہرین نے سر پر
ایسے تھیلے پہن رکھے تھے جن پر پھندوں کی تصاویر بنی ہوئی تھیں جو اسرائیلی
رہنماؤں کے لیے پیغام تھا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں موجود پلے کارڈز پر اسرائیلی
وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر کے خلاف بھی سزائے موت اور پھانسی کے
مطالبات درج تھے۔ احتجاج کے دوران اسرائیل کو نازی ازم سے تشبیہ دی گئی اور
فلسطینی انتفاضہ کی بھرپور حمایت میں بلند نعروں سے علاقہ گونج اٹھا۔ غزہ میں جاری
جنگ کے انسانی المیے کو اجاگر کرنے کے لیے مظاہرین نے خون آلود چادروں میں لپٹی
بچوں کی گڑیاں اٹھا رکھی تھیں جو غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے
والی معصوم بچوں کی ہلاکتوں کی علامتی منظرکشی کر رہی تھیں اور عالمی برادری کی
خاموشی پر سوال اٹھا رہی تھیں۔