پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)
پنجاب میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے، تاہم جب بھی پارٹی کی جانب سے بڑے احتجاج
یا لانگ مارچ کی کال دی جاتی ہے تو سب سے زیادہ سوال پنجاب ہی کے حوالے سے اٹھتا
ہے کہ یہاں کے ارکان اسمبلی اور دیگر اہم رہنما احتجاجی سرگرمیوں اور لانگ مارچ
میں بھرپور شرکت کیوں نہیں کرتے۔ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 100 سے زیادہ ارکان اسمبلی
موجود ہیں، تاہم تحریک انصاف کی جانب سے متعدد مرتبہ احتجاج کی کال دیے جانے کے
باوجود یہ ارکان صوبے سے بڑی تعداد میں عوام کو احتجاج کے لیے نکالنے میں کامیاب
نہیں ہو سکے۔
ان میں اکثریت ان ارکان کی ہے جو 8
فروری کے انتخابات میں تحریک انصاف کے انتخابی نشان کے بغیر آزاد حیثیت سے میدان
میں اترے اور عمران خان کی مقبولیت کی بنیاد پر کامیاب ہوئے۔ ان کے علاوہ سینکڑوں
سابق ٹکٹ ہولڈرز اور ضلعی عہدیداران بھی پارٹی کے ساتھ موجود ہیں۔ تاہم پشاور سے
اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے 4 اکتوبر کی نئی تاریخ کے اعلان کے بعد متعدد ارکان
اسمبلی کے روپوش ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
لانگ مارچ کے لیے ابتدائی کال 27
ستمبر کی تھی۔ تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 25 ستمبر کو پشاور میں
پریس کانفرنس کے دوران سیاسی کمیٹی کے متفقہ فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ لانگ
مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔
اس سے قبل ستمبر کے وسط میں پنجاب
کے لیے بھی احتجاج کا الگ خاکہ سامنے آیا تھا، جس کے مطابق 27 ستمبر کو لاہور مال
روڈ اور فیصل آباد کو مرکزی مقامات مقرر کیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت لاہور، قصور،
سیالکوٹ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، اوکاڑہ، ساہیوال اور پاکپتن کے ارکان کو ان مقامات
پر اکٹھا ہونا تھا، جبکہ جنوبی پنجاب سے کارکنان کے پی ہاؤس پہنچنے کی تجویز تھی۔
تاہم اب پنجاب میں احتجاج یا لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں
آیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پنجاب سے
کارکنوں کے نہ نکلنے کی وجہ بزدلی نہیں بلکہ انتظامی دباؤ ہے۔ حکومت پنجاب نے مارچ
سے قبل صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے، جس کے باعث جلسوں، جلوسوں اور بڑے
اجتماعات پر پابندیاں عائد ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں
رینجرز بھی تعینات ہے، بالخصوص راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں سیکیورٹی
انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔ اٹک پل، جی ٹی روڈ اور موٹرویز پر کنٹینرز بھی لگا دیے
گئے ہیں۔ ستمبر کے دوسرے ہفتے میں شمالی پنجاب سے سینکڑوں کارکنوں
کی فہرستیں بھی سامنے آئیں، جبکہ راولپنڈی سے درجنوں افراد کو گرفتار کرکے اڈیالہ
جیل منتقل کیا گیا۔ اور تھری ایم پی او کے تحت 30 روزہ نظربندی کے احکامات بھی
جاری کیے گئے ہیں۔
عمران خان کی بہن علیمہ خان، نورین
نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ کو بھی لاہور میں تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا
ہے اور وہ 30 روز کے لیے کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پنجاب میں
پارٹی کے ارکان اسمبلی اس وقت شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ
ارکان اسمبلی کے پاس کارکنوں کو احتجاج میں لانے کے لیے مطلوبہ مالی وسائل بھی
نہیں، جبکہ گرفتاریوں کا خدشہ بھی موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق 26 نومبر کے احتجاج
کے بعد پنجاب کے رہنما اور کارکن کسی بھی لانگ مارچ یا احتجاجی تحریک کا حصہ بننے
کے لیے تیار نہیں۔ متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات درج
ہیں، جس کے باعث انہیں خدشہ ہے کہ اگر وہ گھروں سے باہر نکلے تو پولیس انہیں
گرفتار کرلے گی۔
پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ 4
اکتوبر کے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے پنجاب سے ارکان اسمبلی، کارکنوں اور رہنماؤں
کے جانے کا امکان نظر نہیں آ رہا۔ پارٹی کی جانب سے ہدایت دی گئی تھی کہ ہر رہنما
30 کارکنوں کو ساتھ لے کر اسلام آباد پہنچے گا، تاہم موجودہ حالات میں اس ہدایت پر
عملدرآمد ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب
اسمبلی شیخ امتیاز محمود اور چوہدری اعجاز شفیع کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں
پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست گزاروں کے وکیل اظہر صدیق
نے مؤقف اختیار کیاکہ مذکورہ قانون کی دفعات آزادی اور نقل و حرکت کے بنیادی حقوق
کے خلاف ہیں اور اس قانون کو سیاسی نظربندی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب
تک لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے واضح ریلیف نہیں ملتا، اس وقت تک منتخب ارکان کے لیے
کھل کر احتجاجی سرگرمیوں میں نکلنا ممکن نہیں ہوگا۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پارٹی کے
اندر مختلف گروپس موجود ہیں، جس کے باعث قیادت اور ارکان ایک صفحے پر نظر نہیں
آتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب 27 ستمبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا تو اس
وقت بھی پنجاب کے رہنماؤں اور ارکان اسمبلی نے لانگ مارچ سے متعلق مختلف سوالات
اٹھائے تھے، تاہم پارٹی قیادت نے ان تحفظات کو دور کرنے کے بجائے اپنا طے شدہ
منصوبہ انہیں بتا دیا۔ ذرائع کے مطابق اب لانگ مارچ کی نئی تاریخ 4 اکتوبر مقرر
کیے جانے پر بھی پنجاب کے ارکان اسمبلی متفق نہیں ہیں اور پارٹی کے اندر اس حوالے
سے تحفظات موجود ہیں۔