Technology
گھارو جھمپیر ونڈ کوریڈور کی توسیع سے قومی گرڈ کے لیے ایندھن کے بغیر بجلی کی پیداوار
سندھ کے ساحلی علاقے میں جدید ونڈ ٹربائنز سے ۳۵۰ میگاواٹ متبادل بجلی گرڈ میں شامل۔
- Reading time
- 3 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 25 مارچ، 2026، 1:20 PM

Technology
سندھ کے ساحلی علاقے میں جدید ونڈ ٹربائنز سے ۳۵۰ میگاواٹ متبادل بجلی گرڈ میں شامل۔

پاکستان کے متبادل توانائی بورڈ نے سندھ کے ساحلی علاقے گھارو جھمپیر میں ۴ نئے کمرشل ونڈ فارمز کے افتتاح کا اعلان کیا ہے۔ ان جدید ونڈ ٹربائنز سے قومی گرڈ میں ۳۵۰ میگاواٹ کی پاک بجلی شامل ہو گئی ہے۔
سندھ کی ساحلی پٹی پر سال کے ۹ مہینے تیز ہوائیں چلتی ہیں جن سے ونڈ ٹربائنز چوبیس گھنٹے بجلی بناتی ہیں۔ نئے سسٹم کی بدولت کم ہوا کے موسم میں بھی بجلی کی پیداوار جاری رہتی ہے۔
ونڈ فارمز سے بننے والی بجلی ۲۲۰ کلوواٹ کے نئے گرڈ اسٹیشنز کے ذریعے کراچی، حیدرآباد اور ٹھٹہ کی صنعتوں کو بھیجی جا رہی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اس پروجیکٹ سے سالانہ ۶ لاکھ ۵۰ ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئے گی اور مہنگے تیل کی بچت ہو گی۔

ٹربائنز کی تنصیب اور گرڈ کی تیاری کے دوران ۸۰۰ سے زائد مقامی انجینئرز اور ٹیکنیشنز کو روزگار ملا ہے۔
کمپیوٹرائزڈ اسکاڈا سسٹم کے ذریعے ہوا کی رفتار اور بجلی کی وولٹیج پر چوبیس گھنٹے نظر رکھی جاتی ہے۔
بین الاقوامی کمپنیوں نے اس منصوبے میں ۴۲۰ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جس سے پاکستان کے متبادل توانائی سیکٹر پر اعتماد ثابت ہوتا ہے۔
بحیرہ عرب کے ساحل پر سمندری ونڈ فارمز (Offshore Wind) لگانے کے لیے بھی سروے جاری ہے۔

قومی گرڈ حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہوا سے بننے والی بجلی سے گرمیوں میں کراچی کے گرڈ پر دباؤ کم ہوا ہے۔
گھارو جھمپیر ونڈ کوریڈور کی یہ توسیع پاکستان کو سستی اور پاک توانائی کی طرف لے جانے میں کلیدی سنگِ میل ہے۔