شدید گرمی کی طویل لہروں اور
انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کے باعث 2026 میں دنیا کی تقریباً
40 فیصد آبادی زمین کی سطح پر موجود خطرناک اوزون کی آلودگی سے متاثر ہوئی، جبکہ
شمالی نصف کرہ کے بیشتر علاقوں میں اوزون کی آلودگی عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ
سطح سے تجاوز کرگئی۔ کوپرنیکس ایٹماسفیئر مانیٹرنگ سروس کی رپورٹ کے مطابق شدید گرمی اور
انسانی پیدا کردہ فضائی آلودگی کے امتزاج نے رواں سال عالمی سطح پر زمین کی سطح پر
اوزون کی زہریلی مقدار میں اضافے میں کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق زمین کی سطح پر
موجود اوزون بھورے رنگ کی دھند کی صورت اختیار کرسکتی ہے، جو سورج کی بالائے بنفشی
شعاعوں کے کیمیائی ردعمل کے نتیجے میں بنتی ہے۔ یہ آلودگی انسانی صحت کے ساتھ
ماحولیاتی نظام اور زرعی پیداوار کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
کوپرنیکس ایٹماسفیئر مانیٹرنگ سروس کے ڈائریکٹر لارنس روئل نے کہا کہ
اوزون آلودگی اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ فضا، آب و ہوا، صحت اور انسانی
روزگار ایک دوسرے سے کس قدر جڑے ہوئے ہیں۔ آلودگی اور بدلتی ہوئی آب و ہوا اس ہوا
کی کیمیائی ساخت کو متاثر کرتی ہے جو انسان سانس کے ذریعے اندر لیتے ہیں،
ماحولیاتی نظام کی صحت پر اثر ڈالتی ہے اور خوراک اگانے کی صلاحیت کو بھی متاثر
کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال اوزون
کی زد میں آنے والی آبادی گزشتہ 5 سال کے مقابلے میں زیادہ رہی، جبکہ امریکا میں
10 میں سے 4 سے زیادہ افراد ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں فضائی آلودگی موجود ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگلات
میں لگنے والی آگ کا دھواں اور دیگر آلودہ ذرات ہزاروں میل کا سفر کرکے دور دراز
علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر حیاتیاتی مواد کے جلنے سے پیدا ہونے والی
آلودگی میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کمی کے باوجود جنگلات کی آگ کے دھویں سے
متاثر ہونے والی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔
تحقیق کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ حالیہ عرصے میں گنجان آباد
علاقوں کے قریب لگنے والی شدید جنگلات کی آگ ہے، جس سے بڑی تعداد میں لوگ دھویں
اور فضائی آلودگی کی زد میں آئے۔