شمالی کوریا نے تائیوان کو امریکی اسلحہ اور فوجی تعاون کی فراہمی پر
امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی پالیسی آبنائے تائیوان
میں کشیدگی بڑھا رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے ایک
تجزیے کے حوالے سے کہا کہ تائیوان میں امریکی جنگی طیاروں کی موجودگی خطے کے امن
اور استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ پیانگ یانگ نے امریکا کو خبردار کیا کہ اسے
تائیوان کی سلامتی کے نام پر چین کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کے ممکنہ نتائج پر
غور کرنا چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب
تائیوان کو امریکا سے ملنے والے 66 نئے ایف-16 وی بلاک 70 جنگی طیاروں میں سے پہلے
2 طیارے گزشتہ ہفتے تائیوان پہنچے ہیں۔ تائیوان کو چین کی جانب سے بڑھتے ہوئے فوجی
دباؤ کا سامنا ہے۔شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے جون میں چینی صدر شی
جن پنگ سے ملاقات کے دوران ’ایک چین‘ کے اصول کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ چین
تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان کی حکومت چین کے اس
دعوے کو مسترد کرتی ہے۔
دوسری جانب شمالی کوریا نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات اور تعاون جاری
رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن نے روسی صدر
ولادیمیر پیوٹن کو سالگرہ کے پیغام میں کہا کہ پیانگ یانگ دونوں ممالک کے درمیان
جامع تزویراتی شراکت داری کے تحت تعاون مزید بڑھائے گا۔
کم جونگ اُن نے روس کی جنگ کو ’انصاف کی مقدس جنگ‘ قرار دیتے ہوئے
کہا کہ انہیں یقین ہے کہ روس اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع
میں کامیاب ہوگا۔ تاہم ان کے پیغام میں یوکرین میں جاری جنگ کا براہ راست ذکر نہیں
کیا گیا۔ رائٹرز کے مطابق یوکرین اور جنوبی کوریا کے اندازوں کے مطابق شمالی کوریا
نے 2024 سے اب تک یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی مدد کے لیے تقریباً 14 ہزار سے 15
ہزار فوجی بھیجے ہیں۔