مصری بادشاہوں کے مقبروں سے ملنے والی ہزاروں سال پرانی کھوپڑیاں
قدیم مصر کے بادشاہوں سے وابستہ 5 ہزار سال پرانے معمے پر نئی تحقیق نے حیران کن شواہد پیش کردیے ہیں۔
- Reading time
- 2 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 7 اکتوبر، 2026، 6:06 AM

قدیم مصر کے بادشاہوں سے وابستہ 5 ہزار سال پرانے معمے پر نئی تحقیق نے حیران کن شواہد پیش کردیے ہیں۔

قدیم مصر کے بادشاہوں سے وابستہ 5 ہزار سال پرانے معمے پر نئی تحقیق نے حیران کن شواہد پیش کردیے ہیں۔ ماہرین نے ابیڈوس میں پہلی سلطنت کے 3 حکمرانوں کے مقبروں سے ملنے والی انسانی کھوپڑیوں کا دوبارہ جائزہ لیا، جن میں کئی افراد کے سروں پر شدید چوٹوں کے نشانات ملے۔
ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ بعض خادموں کو حکمرانوں کی موت کے بعد جان بوجھ کر ہلاک کیا گیا ہوگا۔ ممکنہ طور پر اس رسم کا مقصد یہ تھا کہ یہ افراد مرنے کے بعد بھی اپنے بادشاہ کی خدمت جاری رکھیں، تاہم محققین نے اسے شواہد سے اخذ کردہ امکان قرار دیا ہے۔
یہ انسانی باقیات پہلی بار 1920 کی دہائی میں دریافت ہوئی تھیں اور اب یونیورسٹی آف کیمبرج کے ڈک ورتھ کلیکشنز میں محفوظ ہیں۔ اس دوران جدید ٹیکنالوجی اور نئے تحقیقی طریقوں نے ایسے نشانات نمایاں کیے، جو ابتدائی جائزوں کے دوران محدود تکنیکی سہولتوں کے باعث واضح نہیں ہوسکے تھے۔ پرڈیو یونیورسٹی کی ڈاکٹر روزلین کیمبل نے بتایا کہ ’ریٹینر قربانی‘ انسانی قربانی کی ایک مخصوص شکل ہے۔ اس رسم میں کسی حکمران کے قریبی افراد کو اس کی موت کے وقت ہلاک کیا جاتا تھا، تاکہ انہیں بھی شاہی تدفین کے عمل کا حصہ بنایا جاسکے۔
ابتدائی کھدائی کے بعد بھی محققین نے انسانی قربانی کا امکان زیر غور رکھا تھا، تاہم اس وقت باقیات پر جان بوجھ کر لگائی گئی مہلک چوٹوں کے واضح ثبوت نہیں ملے، اس لیے یہ سوال تقریباً ایک صدی تک کسی حتمی جواب کے بغیر موجود رہا۔ بعد ازاں جدید فرانزک تکنیک سے 46 کھوپڑیوں کا معائنہ کیا گیا تو 18 پر ممکنہ جان لیوا چوٹیں سامنے آئیں۔ ان میں کھوپڑی کے فریکچر شامل تھے، جبکہ ایک باقیات پر آنکھ کے قریب تیز دھار چیز سے لگنے والے زخم کے آثار بھی ملے۔