امریکی جج نے صدر ڈونلڈ
ٹرمپ کو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں 11 دسمبر
2026 تک حلفاً اپنا بیان ریکارڈ کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے
مطابق امریکی مجسٹریٹ جج اینجولیک لیٹ نے یہ حکم 22 اکتوبر کو سماعت کے دوران جاری
کیا۔ بی بی سی کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مقدمے کی کارروائی کے لیے مقررہ
مدت ختم ہونے میں تقریباً دو ماہ باقی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ ٹرمپ کا بیان
ریکارڈ نہیں کرا سکے۔
بی بی سی کے وکیل چارلس
ٹوبن کے مطابق ٹرمپ نے پہلے 16 اکتوبر کو بیان ریکارڈ کرانے پر رضامندی ظاہر کی
تھی، تاہم بعد میں انہوں نے قومی اہمیت کے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا بیان
مؤخر کردیا۔ بی بی سی کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ اس روز ٹرمپ ریاست جارجیا میں
انتخابی مہم کی سرگرمیوں میں شریک تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر ٹرمپ مقررہ تاریخ
تک بیان ریکارڈ نہیں کراتے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوسکتی ہے، جس میں مقدمہ
خارج کیے جانے کا امکان بھی شامل ہے، بشرطیکہ مقدمے میں شواہد جمع کرنے کی مدت میں
توسیع نہ کی جائے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2025
میں بی بی سی کے خلاف 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان کا الزام ہے
کہ بی بی سی کی دستاویزی فلم ’’ٹرمپ: اے سیکنڈ چانس‘‘ میں 6 جنوری 2021 کی ان کی
تقریر کے مختلف حصوں کو اس انداز میں جوڑا گیا کہ یہ تاثر پیدا ہوا جیسے انہوں نے
اپنے حامیوں کو تشدد پر اکسایا ہو۔ بی بی سی نے تسلیم کیا تھا کہ تقریر کے مختلف
حصوں کو جوڑنے سے غلط تاثر پیدا ہوسکتا تھا اور اس پر معذرت بھی کی تھی۔ تاہم
ادارے نے ٹرمپ کی جانب سے ہتکِ عزت کے الزامات کو مسترد کیا ہے اور مقدمہ خارج
کرنے کی درخواست دی ہے۔ مقدمے میں عدالت کو یہ بھی طے کرنا ہے کہ دستاویزی فلم کی
تدوین سے ٹرمپ کی ساکھ کو قانونی طور پر قابلِ تلافی نقصان پہنچا یا نہیں۔ آئندہ
عدالتی کارروائی میں دونوں فریق اپنے مؤقف اور شواہد پیش کریں گے۔