ہلیری کلنٹن نے اپنے
تازہ پوڈکاسٹ میں کہا کہ وہ اب بھی سمجھتی ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے پاس ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف استعمال کیے جانے
والا کوئی مواد موجود ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے روس سے متعلق فیصلوں کے پیچھے طاقتور
رہنماؤں سے قربت، معاشی مفادات اور ممکنہ دباؤ کو وجوہات قرار دیا؛ تاہم اپنے
شبہے کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا۔
امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ایک بار پھر یہ دعویٰ
کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن
کے پاس امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے متعلق ایسی تصاویر، ویڈیوز یا دیگر معلومات
ہوسکتی ہیں جنہیں ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کلنٹن نے یہ
بات 21اکتوبر 2026ء کو جاری ہونے والے پوڈکاسٹ پروگرام ’’ہائی اسٹیکس ود ایچ آر
سی‘‘ میں کہی، جس کی میزبانی وہ صحافی کارا سوئشر کے ساتھ کرتی ہیں۔ ان کے بیان نے
امریکہ اور روس کے تعلقات، ٹرمپ کی ماسکو سے متعلق پالیسی اور ایپسٹین فائلوں کی
اشاعت کے معاملے کو ایک بار پھر سیاسی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ کلنٹن نے
گفتگو کے دوران کہا، ’’میں اب بھی یقین رکھتی ہوں کہ پوتن کے پاس ٹرمپ کے خلاف کچھ
مواد موجود ہے۔ میں اب بھی سمجھتی ہوں کہ وہ تصاویر، ویڈیوز یا جو کچھ بھی ہو،
اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس شبہ کی ایک وجہ ٹرمپ کی جانب سے جیفری
ایپسٹین سے متعلق فائلوں کی اشاعت کی مخالفت کو قرار دیا۔ کلنٹن کے مطابق، جب یہ
دستاویزات مکمل طور پر سامنے آئیں گی تو ٹرمپ کے حامی بھی ان میں موجود مواد سے
حیران ہوسکتے ہیں۔ یہ کلنٹن کا سیاسی دعویٰ اور اندازہ ہے؛ انہوں نے گفتگو میں
ایسی کسی تصویر، ویڈیو یا دستاویز کی نشاندہی نہیں کی جو ان کے شبہ کی آزادانہ
تصدیق کرتی ہو۔
پوڈکاسٹ میں کلنٹن نے ٹرمپ کی روس سے متعلق پالیسی کے پیچھے تین
ممکنہ محرکات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، پہلی وجہ طاقتور حکمرانوں کے لیے ٹرمپ کی
پسندیدگی، دوسری معاشی مفادات اور تیسری یہ امکان ہے کہ پیوٹن کے پاس ٹرمپ کے خلاف کوئی ایسا مواد ہو جسے منظرِ عام پر لانے کی
دھمکی دباؤ کے لیے استعمال کی جاسکے۔ انہوں نے تیل، گیس اور معدنی وسائل سے متعلق
کاروباری مفادات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ٹرمپ کے اقدامات کو سمجھنے کے لیے
مالی مفادات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہ تشریحات کلنٹن کا نقطۂ نظر ہیں، نہ کہ ان
محرکات کے ثابت ہوجانے کا ثبوت۔ گفتگو میں کارا سوئشر نے ممکنہ طور پر نقصان دہ
مواد کے لیے انگریزی اصطلاح ’’کمپرومیٹ‘‘ (Compromat) استعمال کی۔
یہ اصطلاح ایسی معلومات یا مواد کے لیے بولی جاتی ہے جسے کسی شخص کی ساکھ کو نقصان
پہنچانے، اسے بدنام کرنے یا اس پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہو۔
کلنٹن نے اسی تناظر میں کہا کہ ان کے خیال میں ٹرمپ پوتن کو خوش رکھنے کی کوشش
کرتے ہیں تاکہ روسی صدر ان کے خلاف مبینہ مواد ظاہر نہ کردیں۔ تاہم، گفتگو میں یہ
ثابت نہیں کیا گیا کہ پوتن کے پاس واقعی ایسا مواد موجود ہے یا ٹرمپ کی پالیسیوں
کا تعلق کسی ممکنہ دھمکی سے ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کے روس سے
متعلق فیصلوں پر امریکہ میں سیاسی اختلافات برقرار ہیں۔ کلنٹن نے گفتگو میں روس کے
خلاف پابندیوں، یوکرین کے معاملات اور روس کے ساتھ مذاکرات کا بھی حوالہ دیا۔ ان
کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کو صرف سفارتی حکمتِ عملی کے طور پر نہیں بلکہ
طاقتور رہنماؤں سے قربت اور ممکنہ مالی مفادات کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔ ان
کے اس مؤقف سے ڈیموکریٹک حلقوں میں ٹرمپ اور پوتن کے تعلقات سے متعلق پہلے سے
موجود تنقید کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ کلنٹن اور ٹرمپ کے درمیان سیاسی اختلافات
پرانے ہیں۔ 2016 کے صدارتی
انتخابی مقابلے کے دوران بھی کلنٹن نے روس کے امریکی انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت
اور ٹرمپ کے پیوٹن سے تعلقات
پر سوالات اٹھائے تھے۔ اس پس منظر میں ان کا تازہ بیان محض کسی نئے الزام تک محدود
نہیں بلکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک دہائی سے جاری سیاسی کشمکش کے تسلسل کے
طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم، ماضی کے اختلافات یا روس سے متعلق سابقہ
تنازعات اپنے آپ میں اس نئے دعوے کی تصدیق نہیں کرتے۔
اس معاملے میں بنیادی فرق الزام اور ثابت شدہ حقیقت کے درمیان ہے۔
کلنٹن نے واضح طور پر اپنے الفاظ میں کہا کہ وہ ’’یقین رکھتی ہیں‘‘ کہ پوتن کے پاس
ٹرمپ سے متعلق مواد موجود ہے، لیکن انہوں نے کسی قابلِ تصدیق دستاویز، گواہ یا
براہِ راست معلومات کا حوالہ نہیں دیا۔ چنانچہ ان کے بیان کو ایک سابق اعلیٰ
امریکی عہدیدار کے سیاسی شبہے کے طور پر رپورٹ کرنا درست ہوگا، نہ کہ اس ثبوت کے
طور پر کہ روسی صدر واقعی ٹرمپ کو کسی خفیہ مواد کے ذریعے قابو میں رکھے ہوئے ہیں۔