کسی رشتے میں ناخوشی صرف دل کو نہیں
توڑتی بلکہ جسمانی صحت کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ مسلسل اور شدید جھگڑوں سے نیند
خراب ہونے کے ساتھ دل اور پٹھوں میں درد جیسی شکایات پیدا ہوسکتی ہیں جبکہ گھر کا
کشیدہ ماحول بچوں سمیت پورے خاندان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا
ہے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ
خوشگوار اور معاون رشتہ صحت اور عمر میں اضافے سے وابستہ ہوسکتا ہے جبکہ خراب
معیار کے قریبی تعلقات صحت کے لیے اتنا ہی اہم خطرہ بن سکتے ہیں جتنا سگریٹ نوشی
یا جسمانی سرگرمی کی کمی۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر کوئی رشتہ مسلسل خراب سمت میں
جارہا ہو تو کیا اسے دوبارہ بہتر بنایا جاسکتا ہے؟
تحقیق کے بڑھتے ہوئے شواہد بتاتے
ہیں کہ اگر دونوں شریکِ حیات واقعی رشتہ بہتر بنانے کے لیے تیار ہوں تو بہتری ممکن
ہے۔
اگر کسی نئے رشتے میں پہلا بڑا
جھگڑا برتن صاف نہ کرنے جیسے معمولی معاملے پر ہو تو ممکن ہے کہ یہی موضوع مستقبل
میں بھی بار بار سامنے آتا رہے۔ تحقیق کے مطابق جوڑے اکثر اپنے پورے رشتے کے دوران انہی
بنیادی مسائل پر بحث کرتے رہتے ہیں۔ ماہرین انہیں ایسے مسائل قرار دیتے ہیں جو بار
بار سامنے آتے ہیں اور جن پر فریقین کے درمیان مستقل اختلاف رہتا ہے۔ گاؤٹ مین انسٹی ٹیوٹ سے
وابستہ ماہر نفسیات کیری کول کے مطابق یہ اختلافات مالی معاملات، بچوں کی پرورش،
ازدواجی زندگی اور رشتے میں اختیارات کی تقسیم سے متعلق ہوسکتے ہیں جبکہ بظاہر
معمولی معاملات، مثلاً صفائی ستھرائی اور گھر کو ترتیب میں رکھنے پر بھی تنازعات
پیدا ہوسکتے ہیں۔
ماہر نفسیات جان گاؤٹ مین اور ان کی
ٹیم کی ایک طویل مدتی تحقیق میں جوڑوں کے اختلافات کا جائزہ لیا گیا اور پھر 4 سال
بعد دوبارہ ان کا مشاہدہ کیا گیا۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ تقریباً 69 فیصد معاملات
میں جوڑے 4 سال بعد بھی انہی نوعیت کے مسائل پر بحث کررہے تھے جن پر وہ ابتدائی
مرحلے میں اختلاف کرتے تھے۔ دیگر تحقیقات میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے ہیں۔
مالی معاملات مختلف خاندانوں اور ثقافتوں میں تنازعات کی ایک مستقل وجہ رہے ہیں۔
خاص طور پر پیسوں سے متعلق اختلافات زیادہ شدید اور طویل جھگڑوں کا سبب بن سکتے
ہیں۔ گھر کے کام کا غیر مساوی بٹوارہ بھی میاں بیوی کے درمیان کشیدگی پیدا
کرسکتا ہے اور بعض تحقیقات میں اسے طلاق کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق اختلاف رائے
بذات خود کسی خراب رشتے کی علامت نہیں۔ خوشگوار رشتوں میں بھی جھگڑے ہوتے ہیں۔ اصل
فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ جوڑا اختلاف کے دوران اور اس کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ
کس طرح پیش آتا ہے۔ کیری کول کے مطابق تحقیق میں 4 ایسے رویوں کی نشاندہی کی
گئی ہے جو کسی رشتے کے ٹوٹنے کے خطرے کی علامت ہوسکتے ہیں جو یہ ہیں تنقید، تحقیر،
دفاعی رویہ اور خاموشی اختیار کرکے گفتگو سے گریز۔
یعنی ہر مسئلے کا الزام ساتھی پر
ڈالنا، اسے کمتر سمجھنا یا تحقیر آمیز انداز اختیار کرنا، اپنی ہر غلطی کا دفاع
کرنا اور تنازع کے دوران مکمل طور پر خاموش ہوکر بات چیت سے انکار کردینا۔
کیری کول کے مطابق یہ رویے رشتے کو
شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں تاہم اگر دونوں فریق رشتہ بہتر بنانے کے لیے تیار ہوں
تو ان رویوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ شریک حیات کی مسلسل تنقید
صحت پر منفی اثرات سے منسلک ہوسکتی ہے۔ اسی طرح جارحانہ رویے اور مسلسل دشمنی پر
مبنی بحث کو ماہرین تباہ کن تنازع قرار دیتے ہیں جو وقت کے ساتھ رشتے کے خاتمے کے
خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ اس کے برعکس وہ اختلاف جس میں دونوں فریق احترام، تجسس،
مہربانی اور مسئلے کے مشترکہ حل پر توجہ دیں رشتے کو مضبوط کرسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی رشتے میں
ایک اہم عنصر یہ احساس ہے کہ آپ کا ساتھی آپ کی بات سنتا، آپ کی حمایت کرتا اور آپ
کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے شریکِ حیات کو محسوس کرنا جو آپ کے لیے جواب دہ اور
معاون ہو، ازدواجی اطمینان سے وابستہ ہے اور بعض تحقیقات کے مطابق یہ جسم میں سوزش
کم کرنے، جسمانی صحت بہتر بنانے اور طویل عمر سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ مہربانی، تعاون اور
مشترکہ فیصلے بھی رشتے میں طویل مدتی مثبت ماحول پیدا کرسکتے ہیں۔ شادی شدہ جوڑوں
پر 20 سال تک جاری رہنے والی ایک تحقیق میں مشترکہ فیصلہ سازی اور گھر کے کاموں کی
نسبتاً مساوی تقسیم کو زیادہ ازدواجی خوشی اور کم تنازعات سے منسلک پایا گیا۔ یہاں تک کہ جھگڑنے کا
انداز نیند پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق تباہ کن انداز میں ہونے والے
جھگڑے خراب نیند سے جبکہ تعمیری انداز میں اختلاف بہتر نیند سے منسلک ہے۔
کیا
ٹوٹتا ہوا رشتہ دوبارہ سنبھل سکتا ہے؟
اگر کوئی جوڑا مسلسل تلخ اور
مخالفانہ رویوں میں گھرا ہو تو اچانک ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور نرمی سے پیش
آنا تقریباً ناممکن محسوس ہوسکتا ہے۔ لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ اس صورت حال میں بھی بہتری ممکن ہے
خصوصاً ازدواجی مشاورت اور ماہرین کی مدد سے۔
تحقیق کے مطابق جوڑوں کی مشاورت
تقریباً 70 فیصد جوڑوں پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ اس سے رشتے کے مسائل بہتر بنانے،
ازدواجی اطمینان بڑھانے، رشتے میں پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کم کرنے اور جذباتی
قربت مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں اس کے اثرات فرد کی ذہنی اور
جسمانی صحت تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے وابستہ
ماہر نفسیات اور ازدواجی معالج جے لیبو کے مطابق جب جوڑے مشاورت کے مرحلے تک
پہنچتے ہیں تو اکثر ان کے درمیان ہمدردی کا جذبہ کافی حد تک کم ہوچکا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق مشاورت کا
ایک بنیادی چیلنج یہی ہوتا ہے کہ جوڑے ایک دوسرے کے لیے ہمدردی دوبارہ کیسے پیدا
کریں۔ ان کے نزدیک بہتری کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ دونوں فریق دوبارہ ایک
دوسرے سے بات کرنے اور ایک دوسرے کی بات سننے کے قابل ہوجائیں۔ یہ بظاہر آسان کام لگتا
ہے لیکن شدید کشیدگی والے رشتے میں ساتھی کی بات تحمل سے سننا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ لیبو کے مطابق ایک اور
اہم تبدیلی یہ ہے کہ انسان صرف یہ سوچنے کے بجائے کہ میرے ساتھی میں کیا مسئلہ ہے؟
یہ سوال کرنا شروع کردے کہ ’ہمارے درمیان کیا ہورہا ہے؟‘
کیری کول کے مطابق جوڑوں کی مشاورت
کے دوران 2 ایسی علامات خاص طور پر امید پیدا کرتی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ
رشتہ سنبھل سکتا ہے۔ پہلی علامت یہ ہے کہ ایک شریک حیات دوسرے سے کہے کہ میں
سمجھ سکتا/سکتی ہوں کہ تم ایسا کیوں محسوس کرتے/کرتی ہو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھی
کے نقطہ نظر کو چاہے وہ اس سے متفق نہ بھی ہو ایک قابل فہم نقطہ نظر کے طور پر
قبول کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
دوسری علامت تجسس ہے۔ مثلاً اختلاف
کے باوجود اگر کوئی شریک حیات یہ پوچھے کہ مجھے مزید بتاؤ کہ تم اس نتیجے تک کیسے
پہنچے؟ تو یہ اس بات کی علامت ہوسکتی ہے کہ وہ دوسرے شخص کو سمجھنے میں اب بھی
دلچسپی رکھتا ہے۔ لیبو کے مطابق اگر دونوں فریق اپنے مسائل پر کام کرنے کے
لیے تیار ہوں تو تحقیق اس بات کے مضبوط شواہد فراہم کرتی ہے کہ نتائج بہتر ہوسکتے
ہیں۔
بار بار ہونے والے کسی تنازع کو حل
کرنے کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ دونوں کس بات پر لڑ رہے ہیں بلکہ یہ
سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اس مسئلے کے پیچھے ہر شخص کی خواہش، خوف اور زندگی کا مقصد
کیا ہے۔ کیری کول نے ایک ایسے جوڑے کی مثال دی جو مسلسل پیسوں کے
معاملے پر لڑتا تھا۔ دونوں کا تعلق غربت سے بھری زندگی سے تھا مگر غربت نے دونوں
پر مختلف اثرات ڈالے تھے۔ بیوی کے لیے مالی تحفظ اور خودمختاری اہم تھی اس لیے وہ
پیسے بچانے اور محتاط بجٹ سازی پر زور دیتی تھی۔
شوہر کی خواہش تھی کہ وہ اپنی محنت
کی کمائی ایسی چیزوں پر خرچ کرے جن سے اسے زندگی سے لطف اندوز ہونے اور معاشرے میں
دوسروں کے ساتھ گھلنے ملنے کا احساس حاصل ہو۔
یوں دونوں کے درمیان خرچ کرنے اور
بچت کے معاملے پر مسلسل جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔
مشاورت کے دوران دونوں نے ایک دوسرے
کے بچپن کے مشکل تجربات، غربت کے اثرات اور ان تجربات سے بننے والی زندگی کی
ترجیحات کو سمجھا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک درمیانی راستہ نکالا اور طے کیا کہ
آمدنی کا کتنا حصہ بچایا جائے گا اور کتنا خرچ کرنے کے لیے دستیاب ہوگا۔ کیری کول کے مطابق دونوں
نے مسئلہ حل کرلیا لیکن اس کے لیے پہلے یہ سمجھنا ضروری تھا کہ ہر ایک کے لیے وہ
معاملہ اتنا اہم کیوں ہے۔
رشتہ
بچانے کے لیے دونوں کی آمادگی ضروری ہے
جے لیبو کے مطابق ازدواجی مشاورت
میں کامیابی کے لیے جوڑے کی اپنی آمادگی انتہائی اہم ہے۔
ان کے مطابق دنیا کا بہترین معالج
بھی ایسے جوڑے کی زیادہ مدد نہیں کرسکتا جو خود رشتہ بہتر بنانے کے لیے تیار نہ
ہوں جبکہ مسئلے حل کرنے کے لیے پرعزم جوڑا محدود وسائل کے باوجود بھی خاصی بہتری
حاصل کرسکتا ہے۔ یعنی رشتہ بہتر بنانے کی کوشش صرف ماہر نفسیات یا معالج کی
ذمہ داری نہیں بلکہ دونوں شریک حیات کی مشترکہ کوشش ہے۔
اگر
علیحدگی ہی فیصلہ ہو تو؟
ماہرین کے مطابق جوڑے اگر بالآخر
علیحدگی یا طلاق کا فیصلہ بھی کرلیں تو ازدواجی مشاورت ان کے لیے فائدہ مند ہوسکتی
ہے۔ اس سے علیحدگی کے مرحلے سے نمٹنے، اس کے ذہنی صحت پر اثرات کم کرنے
اور ایک دوسرے کے خلاف دشمنی کم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر بچے ہوں تو والدین
کے درمیان نسبتاً بہتر تعلق بچوں کی ذہنی صحت کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے۔ طلاق یا رشتہ ختم ہونا
یقیناً ایک تکلیف دہ تجربہ ہوسکتا ہے لیکن جے لیبو کے مطابق یہ ایسا مرحلہ بھی بن
سکتا ہے جہاں انسان اپنے بارے میں اہم چیزیں سیکھتا ہے اور ایسی سمجھ حاصل کرتا ہے
جو زندگی کے باقی حصے میں اس کے کام آسکتی ہے۔
اور یہ سیکھنے کا عمل صرف بحران کا
شکار جوڑوں تک محدود نہیں۔ ماہرین کے مطابق اچھے رشتے رکھنے والے افراد بھی ایک
دوسرے کو بہتر سننے، سمجھنے اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کے لیے جگہ پیدا کرنے کی
صلاحیت پر کام کرکے اپنے تعلق کو مزید مضبوط بناسکتے ہیں۔