جنوبی صوبے اوکیناوا میں ایک خاتون کے قتل کے الزام میں امریکی میرین
کی گرفتاری کے بعد جمعرات کو درجنوں مظاہرین جاپان کی وزارت خارجہ کے سامنے جمع ہو
گئے جن میں سے کئی امریکی فوجیوں کے جرائم کی مذمت کے بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔ یہ کیس برسوں پر محیط واقعات کی تازہ ترین کڑی ہے
جس نے تائیوان اور چین کے قریب جزائر پر امریکی فوجیوں کی بڑی موجودگی پر بے چینی
کو ہوا دی ہے امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس سے مشرقی ایشیا کی سلامتی کے لیے
اہم تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم
انا یاگی کے قتل پر عوامی ردعمل سنہ 1995 میں 3 امریکی فوجیوں کے ہاتھوں 12 سالہ
اوکیناوا کی بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد ہونے والے بڑے مظاہروں کے مقابلے میں کم
رہا ہے۔
پولیس کے مطابق، 20 سالہ لانس کارپورل ڈیون جیکب بیلارڈ پر شبہ ہے کہ
اس نے گزشتہ ویک اینڈ اوکیناوا کے دارالحکومت ناہا کے ایک ہوٹل میں 39 سالہ یاگی
کو قتل کیا اور اس کا بٹوہ اور بیگ لے لیا۔ بیلارڈ نے الزامات سے انکار کیا ہے۔ جمعرات کے احتجاج کے رہنماؤں نے لاؤڈ اسپیکر پر
امریکی فوجیوں کی جانب سے زیادتیوں کے بارے میں بات کی اور حکومت سے جواب دینے کا
مطالبہ کیا جبکہ ہجوم میں موجود دیگر افراد نے رضامندی میں شور مچانے والے آلات
بجائے۔ وزیر
اعظم ثناء تاکائیچی نے اس قتل کو انتہائی سفاکانہ اور گھناؤنا قرار دیا ہے اور
ٹوکیو نے کہا ہے کہ اس نے امریکا سے سخت احتجاج کیا ہے اور اس طرح کے واقعات کو
دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
جاپان دنیا میں امریکی افواج کے سب سے بڑے بیرون ملک دستے کی میزبانی
کرتا ہے۔ جاپان میں مقیم 18,000 میرینز کی اکثریت اوکیناوا میں تعینات ہے جس پر
امریکا دوسری جنگ عظیم کے اختتام سے سنہ 1972 تک قابض رہا۔ اس
موجودگی نے بارہا شور، ہوائی جہاز کے حادثات اور اہلکاروں کے رویے جیسے مسائل پر
رہائشیوں میں ناراضگی کو جنم دیا ہے۔ امریکا نے بدھ کے روز فوجی کارروائیوں
میں 48 گھنٹے کا وقفہ اور شراب پر پابندی شروع کی جبکہ فوجیوں کو معیار اور نظم و
ضبط پر تربیت دی جا رہی ہے۔ سروس ممبران کو غور و فکر کے دور کے لیے ایک ماہ کا
کرفیو بھی دیا گیا ہے۔