ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روسی صدر ولادیمیر
پیوٹن سے ملاقات کے دوران واضح کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ خطے کے ممالک امریکی
مداخلت کے بغیر اپنے تمام درپیش مسائل حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ایران کے
صدر مسعود پزشکیان نے ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم (GECF) کے اجلاس میں شرکت کے بعد ایرانی سرکاری خبر رساں
ایجنسی ‘ارنا’ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ اجلاس کے دوران توانائی اور
گیس کے شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اہم معاہدے طے پائے۔ دورے کے دوران
ایرانی صدر نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے
بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہونے والی ملاقات
میں ایرانی صدر نے زور دے کر کہا ’میرا پختہ یقین ہے کہ ہم امریکا پر انحصار کیے
بغیر خطے میں اپنے تمام مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکا کے اقدامات
ہمیں کثیر الجہتی تعلقات اور ان ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کا موقع فراہم کر رہے
ہیں جو خود بھی امریکی یکطرفہ پابندیوں کا شکار ہیں۔‘ ایرانی
صدر نے مزید کہا کہ سائنس، صنعت، ثقافت،
سیکیورٹی اور عسکری امور میں باہمی تعاون کو وسیع کرنے کے لیے دونوں ممالک میں
مضبوط سیاسی ارادہ موجود ہے۔
ملاقات کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ انہوں نے ایرانی
صدر کے ساتھ خطے کی موجودہ صورتحال اور جنگ پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ولادیمیر پیوٹن
نے کہا ’ہم نے خطے کے تناظر میں ون آن ون ملاقات کی ہے، جو کہ بلا شبہ باعثِ تشویش
ہے۔ مجھے امید ہے کہ صورتحال مثبت سمت کی طرف پیشرفت کرے گی۔‘
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران اور امریکا کے
درمیان اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت
ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کا رویہ واشنگٹن کی طرف سے ’سفارت کاری کے ساتھ
توہین آمیز سلوک‘ کو ظاہر کرتا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’
(X) پر جاری کردہ اپنے پیغام میں ترجمان نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے اس
معاہدے پر کبھی یقین نہ رکھنے اور اسے وقت کا ضیاع قرار دینے کے اعتراف نے امریکی
سفارتی عہد و پیمان کی ’کھوکھلی حقیقت‘ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن پر
بار بار اپنے وعدوں سے مکرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی بین الاقوامی
ذمہ داریاں امریکی مفادات کے منافی ہوتی ہیں، وہ انہیں مسترد کر دیتا ہے۔ اسماعیل
بقائی نے یورپی ممالک کی جانب سے امریکی احتساب میں ناکامی پر بھی تنقید کی اور
لکھا ’منسوخ شدہ معاہدوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی بین الاقوامی
قوانین کا انتخاب پسند کے مطابق ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی سیاسی پروپیگنڈا واشنگٹن کو
اس کی جوابدہی سے بری الذمہ نہیں کر سکتا۔‘
دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے
خلاف جاری جنگ ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے۔ قطر کے ثالثوں
نے تہران کو ایک نئے مجوزہ معاہدے کا مسودہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد جنگ کے خاتمے
کے لیے کوئی قابلِ قبول راستہ نکالنا ہے۔
مذاکرات سے واقف ایک
عہدیدار کے مطابق ایران کو پیش کی گئی اس تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور توقع
ہے کہ تہران رواں ہفتے کے اختتام تک اپنا جواب دے دے گا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی
رپورٹ کے مطابق قطری ثالثوں نے اتوار کے روز ایران کے سامنے یہ نئی تجویز رکھی۔
تاہم، مجوزہ معاہدے کی شرائط اور اس میں شامل اہم نکات تاحال منظرِ عام پر نہیں
آئے۔ عہدیدار نے بتایا کہ تہران میں اتوار کو ہونے والی ملاقات سے قبل یہ خدشات
بھی ظاہر کیے جا رہے تھے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اسی ہفتے ایران
پر حملوں کا دوبارہ حکم دے سکتے ہیں۔ قطر کی جانب سے یہ پیش رفت ایسے وقت میں
سامنے آئی ہے جب جنگ روکنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ اب
توجہ ایران کے جواب پر مرکوز ہے، تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ تہران مجوزہ
معاہدے کو قبول کرے گا یا اس میں ترامیم کا مطالبہ کرے گا۔