اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے پارلیمانی انتخابات میں اپنے حکومتی اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد عرب سیاسی
جماعتوں پر بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی اور نتائج چوری کرنے کا الزام عائد
کردیا ہے۔ ان کی جماعت لیکوڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ عرب اکثریتی علاقوں میں ووٹروں کو
رشوت دی گئی، انتخابی عملے کو دھمکیاں دی گئیں، جعلی شناختوں پر ووٹ ڈالے گئے اور ووٹروں کو متحرک کرنے کیلئے
غیرقانونی سافٹ ویئر استعمال کیا گیا۔ جماعت نے پولیس، داخلی سلامتی کی خفیہ ایجنسی شن
بیت اور مرکزی الیکشن کمیٹی سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا
ہے۔
اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل اور دی یروشلم پوسٹ کی 28 اکتوبر کی
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے بدھ کو ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے
الزام لگایا کہ عرب سیاسی جماعتوں نے منظم انتخابی بے ضابطگیوں کے ذریعے نتائج پر
اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ نیتن یاہو نے اپنی جماعت کا یہی بیان اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر بھی شیئر کیا ہے۔ تاہم اسرائیلی انتخابی حکام نے ملک
گیر یا منظم دھاندلی کی تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ موصول ہونے والی شکایات کا
مقررہ طریقہ کار کے تحت جائزہ لیا جارہا ہے۔ لیکوڈ نے اپنے بیان میں عرب سیاسی
جماعتوں پر دہشت گردی کی حمایت اور اسرائیل کی یہودی ریاست کی حیثیت ختم کرنے کی کوششوں کا الزام بھی لگایا ہے۔ عرب جماعتوں
نے اس نوعیت کے الزامات کو مسترد کیا ہے اور نیتن یاہو کے انتخابی بیانات کو عرب
ووٹروں کی شرکت کم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
سینکڑوں گواہیاں اور ہزاروں نقد رقم والے لفافے،
لیکوڈ کا دعویٰ
لیکوڈ
کے مطابق جماعت پولیس، شن بیت اور اسرائیلی مرکزی الیکشن کمیٹی کو سینکڑوں گواہیوں
اور مبینہ شواہد پر مشتمل مواد فراہم کررہی ہے۔ جماعت
نے دعویٰ کیا ہے کہ عرب اکثریتی علاقوں کے متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر سنگین بے
ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ جماعت
کے بیان میں الزام لگایا گیا کہ ہزاروں لفافوں میں نقد رقم کے ساتھ عرب سیاسی
جماعت راعم کے انتخابی پرچے رکھے گئے تھے، جنہیں مبینہ طور پر ووٹروں کو متاثر
کرنے کیلئے استعمال کیا جانا تھا۔ اس
کے علاوہ پولنگ عملے کو دھمکیاں دینے، تشدد، ایک ہی پولنگ بوتھ میں متعدد افراد کے
داخل ہونے، دوہری شناخت پر ووٹ ڈالنے، ووٹروں اور بیلٹ لفافوں کی تعداد میں فرق
اور انتخابی مہم کیلئے ممنوعہ سافٹ ویئر استعمال کرنے جیسے الزامات بھی عائد کیے
گئے ہیں۔ لیکوڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام
شکایات کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ جماعت
کا کہنا ہے کہ مبینہ بے ضابطگیوں نے انتخابی نتائج کی ساکھ اور اسرائیلی شہریوں کے
حق رائے دہی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
3 افراد کی گرفتاری، پولیس نے نقد
رقم اور انتخابی پرچے برآمد کیے
انتخابی
دھاندلی کے الزامات کے دوران اسرائیلی پولیس نے 27 اکتوبر کو جنوبی علاقے نقب میں
3 افراد کو ووٹروں کو رشوت دینے کی مبینہ کوشش کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق گرفتار افراد پر شبہ ہے کہ
وہ عرب جماعت راعم کے حق میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے شہریوں میں رقم تقسیم کرنے کی
تیاری کررہے تھے۔ ملزمان کا تعلق نقب کے بدو علاقوں سیگیو شالوم اور عرعرہ سے
بتایا گیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے گھروں کی
تلاشی کے دوران ایسے لفافے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا جن میں ہزاروں شیکل نقد رقم
اور انتخابی پرچے موجود تھے۔ معاملے
کی تحقیقات اسرائیلی پولیس کے خصوصی تفتیشی ادارے کے سپرد کی گئی ہیں۔ تاہم ان 3 افراد کی گرفتاری اور مخصوص انتخابی رشوت
کے شبہے سے پورے ملک میں منظم دھاندلی یا تمام عرب جماعتوں کے ملوث ہونے کا نتیجہ
اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ گرفتار افراد کے خلاف الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔
عرب جماعت راعم نے الزامات مسترد کردیے، پولیس
کی کارروائی پر بھی اعتراض
عرب
سیاسی جماعت راعم نے اپنے کارکنوں سے متعلق الزامات مسترد کرتے ہوئے گرفتاریوں کو
سیاسی مقاصد کے تحت کی گئی کارروائی قرار دیا ہے۔ دی
یروشلم پوسٹ کے مطابق جماعت کا مؤقف ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کے اقدامات میں
کوئی غیرقانونی بات ثابت نہیں ہوئی اور ان گرفتاریوں کا مقصد عرب شہریوں کو ووٹنگ
سے روکنا اور ان کی انتخابی شرکت کم کرنا تھا۔ راعم
کے رہنما منصور عباس نے بھی نیتن یاہو کی جانب سے عرب ووٹروں کی بڑھتی ہوئی تعداد
کو خطرے کے طور پر پیش کرنے پر تنقید کی ہے۔ ان
کے مطابق نیتن یاہو عرب ووٹروں کا خوف پیدا کرکے دائیں بازو کے حامیوں کو متحرک
کرنا چاہتے ہیں۔ عرب
سیاسی رہنماؤں نے انتخابی مہم کے دوران نیتن یاہو کے بیانات کو اشتعال انگیز قرار
دیتے ہوئے کہا تھا کہ عرب شہریوں کا انتخابات میں حصہ لینا ان کا قانونی اور
جمہوری حق ہے۔
اسرائیلی الیکشن کمیشن نے نیتن یاہو کی شکایات
کا جائزہ شروع کردیا
اسرائیل
کی مرکزی الیکشن کمیٹی نے بدھ کو تصدیق کی کہ اسے لیکوڈ کی جانب سے انتخابی بے
ضابطگیوں سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں اور ان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق کمیٹی نے اپنے بیان
میں کہا کہ انتخابی شفافیت کی نگرانی کا نظام ہر انتخابات میں فعال کیا جاتا ہے
اور اس کے تحت تمام سیاسی جماعتوں کی شکایات اور انتخابی نتائج سے متعلق اعتراضات
کی جانچ کی جاتی ہے۔ کمیٹی
نے واضح کیا کہ لیکوڈ کی درخواست بھی اسی باقاعدہ طریقہ کار کے تحت دیکھی جارہی ہے۔ انتخابی حکام نے 25 اکتوبر کو ہی تمام سیاسی
جماعتوں کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ مشکوک پولنگ اسٹیشنوں اور ممکنہ بے ضابطگیوں
کی تفصیلات فراہم کرسکتی ہیں۔ اس
سے قبل الیکشن کمیٹی کے ایک عہدیدار نے اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو میں وسیع پیمانے
پر انتخابی دھاندلی کے دعووں کو مسترد کیا تھا۔
نیتن یاہو کو صرف 53 نشستیں، عرب جماعتوں کی
تاریخی کامیابی
لیکوڈ
کے یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے عام
ووٹوں کی گنتی کے بعد نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمان میں حکومت بنانے کیلئے درکار
اکثریت سے پیچھے دکھائی دے رہا ہے۔ بدھ
کو سامنے آنے والی عبوری انتخابی تقسیم کے مطابق نیتن یاہو کے دائیں بازو اور
مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو 53 نشستیں، سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں
اپوزیشن جماعتوں کو 48 جبکہ عرب سیاسی جماعتوں کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کا
امکان ہے۔ اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمان
کنیسٹ میں حکومت بنانے کیلئے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت ضروری ہے۔ اس حساب سے نیتن یاہو کا اتحاد مطلوبہ اکثریت سے 8
نشستیں پیچھے ہے، جبکہ عرب جماعتیں نئی حکومت کے قیام میں اہم کردار ادا کرسکتی
ہیں۔ عرب جماعتوں کی 19 نشستوں تک
ممکنہ رسائی غیرمعمولی انتخابی کامیابی سمجھی جارہی ہے۔ تاہم خصوصی بیلٹس کی گنتی
مکمل ہونے تک پارلیمانی نشستوں کی حتمی تقسیم میں تبدیلی آسکتی ہے۔
انتخابات میں شکست کا خدشہ یا واقعی دھاندلی؟
سیاسی تنازع شدت اختیار کرگیا
اسرائیلی
میڈیا کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت نے انتخابات سے پہلے ہی عرب اکثریتی علاقوں کے
پولنگ اسٹیشنوں کی نگرانی اور ممکنہ انتخابی اعتراضات کی تیاری شروع کردی تھی۔ دی ٹائمز آف اسرائیل نے اسرائیلی چینل 12 کے حوالے
سے رپورٹ کیا کہ لیکوڈ کے بعض کارکنان انتخابات سے پہلے ہی نتائج کو چیلنج کرنے کے
امکانات پر غور کررہے تھے، خصوصاً ایسی صورت میں جب نیتن یاہو کا اتحاد واضح
کامیابی حاصل نہ کرسکے۔
دوسری
جانب عرب جماعتوں کا مؤقف ہے کہ ان کی انتخابی کامیابی عرب شہریوں کی بڑھتی ہوئی
سیاسی شرکت کا نتیجہ ہے اور اسے غیرقانونی قرار دینے کی کوشش مناسب نہیں۔ انتخابی نتائج کے بعد اب نیتن یاہو کی جماعت کے
الزامات، پولیس کی تحقیقات اور مرکزی الیکشن کمیٹی کی کارروائیوں کو خصوصی اہمیت
حاصل ہوگئی ہے۔ تاہم ابھی کسی مجاز ادارے نے یہ نتیجہ جاری نہیں کیا کہ اسرائیل کے
پارلیمانی انتخابات منظم دھاندلی کے ذریعے چوری کیے گئے ہیں۔ دوسری
جانب نیتن یاہو اور اپوزیشن دونوں کو نئی حکومت کی تشکیل کیلئے سیاسی حمایت حاصل
کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ آنے والے دنوں میں خصوصی ووٹوں کی گنتی، انتخابی اعتراضات
کے فیصلے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اسرائیل کے آئندہ سیاسی منظرنامے کا
تعین کریں گے۔