فرانس میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گئے،
فرانس کے شہر لیموج میں نقاب پوش مظاہرین نے 143 سال پرانے تاریخی ٹاؤن ہال کو آگ
لگا دی جس سے عمارت کی چھت گر گئی۔ فرانس
میں ستمبر کے وسط میں پیرس کے شمالی مضافات میں طلبہ نے اساتذہ کی کمی اور اسکولوں
کی ناقص عمارتوں کے خلاف احتجاج شروع کیا جو بعد ازاں یہ مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی
قیمتوں، عدم مساوات اور عوامی خدمات کی خراب صورتحال کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں
تبدیل ہو گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مارسیلی میں
مظاہرین نے سٹی ہال میں گھس کر فرانسیسی جمہوریہ کی قومی علامت ماریان کا مجسمہ
الٹ دیا اور فرنیچر توڑ دیا جبکہ لیل شہر میں میئر کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی۔
مظاہرین
نے مختلف شہروں میں مہنگے برانڈز کی دکانوں اور سپر مارکیٹوں میں لوٹ مار کی اور
پولیس کی گاڑیوں اور اہلکاروں پر حملے کیے۔ پیرس سمیت مختلف شہروں میں
مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے
آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔’بائیں بازو
کے عناصر انتخابات سے چند ماہ قبل بدامنی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں‘
دوسری جانب فرانسیسی وزیراعظم سباسٹین لیکورنو نے کہا ہے کہ
حکومت تشدد سے مرعوب نہیں ہو گی۔ انہوں نے اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات سے
چند ماہ قبل ملک میں بدامنی کا ذمہ دار انتہائی بائیں بازو کے عناصر اور جرائم
پیشہ افراد کو قرار دیا۔ انہوں
نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ”ان لوگوں سے جو واضح طور پر اس تشدد کو صدارتی
انتخابات سے پہلے تیاری کی مشق کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، میں صاف کہتا
ہوں کہ کوئی بھی تشدد کے ذریعے اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط نہیں کر سکے گا۔“ لیکورنو نے تاثرہ مقامات کا دورہ کرتے ہوئے مزید بتایا کہ مظاہروں
کے سلسلے میں تقریباً 1800 افراد کو گرفتار کیا
جا چکا ہے۔
مظاہروں میں کتنے
لاکھ لوگ شریک ہوئے؟
فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق ملک بھر میں ہونے والے
مظاہروں میں تقریباً پانچ لاکھ 50 ہزار افراد نے شرکت کی جبکہ فرانسیسی ٹریڈ یونین
سی جی ٹی نے رائٹرز کو بتایا کہ اس کے اندازے کے مطابق مظاہرین کی تعداد آٹھ لاکھ
تھی۔ صدر ایمانوئیل میکرون نے
حملوں میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات چلانے اور انہیں سزا دلوانے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ”ہم سب افراتفری پھیلانے
والوں کے خلاف متحد رہیں گے، جن کا مقصد صرف ہمارے اداروں کو کمزور کرنا اور ان
لوگوں کو اپنے مطالبات پُرامن طور پر پیش کرنے سے روکنا ہے۔“
پیرس میں احتجاج کرنے والی 19 سالہ لولا نے کہا کہ ہم اس لیے لڑ
رہے ہیں کیونکہ زندگی گزارنے کے اخراجات ناقابل برداشت ہو چکے ہیں، ایندھن کی
قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور ملک بھر میں ہائی اسکول کے طلبہ کو صرف احتجاج کرنے،
مزید اساتذہ اور تعلیم کے حالات بہتر بنانے کا مطالبہ کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا
جا رہا ہے ۔ یورپ میں بڑھتے ہوئے اخراجاتِ
زندگی کے باعث ہفتے کے روز بیلجیئم، پرتگال اور اٹلی میں بھی نسبتاً چھوٹے پیمانے
پر مظاہرے ہوئے۔
البانیہ میں بھی مظاہرے
ادھر البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں طلبہ کی قیادت میں حکومت
مخالف مظاہرے پانچویں روز بھی جاری ہیں۔ بدعنوانی اور روزگار کی کمی پر
وزیراعظم ایڈی راما سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، پولیس نے مظاہرین پر آنسو
گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔