اٹلی میں امیگریشن
قوانین اور غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کی واپسی کا معاملہ یورپی یونین کی
سطح پر اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ اطالوی حکومت، وزیرِاعظم جورجا میلونی کی قیادت میں،
یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کی حمایت کر رہی ہے جن کے ذریعے
پناہ کی درخواستوں پر کارروائی تیز کی جا سکے، مسترد ہونے والی درخواستوں کے بعد
واپسی کے عمل کو مؤثر بنایا جائے اور غیر قانونی ہجرت کو محدود کیا جا سکے۔
یورپی یونین نے یکم
اکتوبر 2026 کو ایسے نئے قواعد کی منظوری دی جن کا مقصد ان تارکینِ وطن کی واپسی
کے عمل کو مؤثر بنانا ہے جنہیں یورپی یونین میں قانونی طور پر رہنے کا حق حاصل
نہیں۔ ان نئے ضوابط کے تحت رکن ممالک کو ایسے افراد کی واپسی کے فیصلوں پر عمل
درآمد کے لیے مزید اختیارات ملیں گے، جبکہ یورپی یونین سے باہر دوسرے ممالک میں
واپسی کے مراکز قائم کرنے کی گنجائش بھی پیدا ہوگی۔ ان مراکز کے قیام کے لیے
متعلقہ ملک کے ساتھ معاہدہ ضروری ہوگا اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کا
احترام لازمی قرار دیا گیا ہے۔ نئے قواعد میں سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے
افراد کے حوالے سے بھی سخت اقدامات کی گنجائش رکھی گئی ہے، جن میں مخصوص حالات میں
طویل حراست شامل ہو سکتی ہے۔ اطالوی حکومت نے ان تبدیلیوں کو اپنی امیگریشن پالیسی
کے لیے اہم پیشرفت قرار دیا ہے، کیونکہ وزیرِاعظم جورجا میلونی کی حکومت طویل عرصے
سے سرحدوں پر کنٹرول سخت کرنے اور ان افراد کی واپسی یقینی بنانے کی حمایت کرتی
رہی ہے جنہیں ملک میں رہنے کی قانونی اجازت نہیں۔ تاہم، یہ قواعد تمام تارکینِ وطن
پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتے؛ پناہ کی درخواستوں اور ہر فرد کے قانونی معاملے
کا جائزہ متعلقہ ضوابط کے مطابق لیا جانا ضروری ہے۔ یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ
واپسی کے اقدامات میں بنیادی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا احترام لازمی ہوگا۔
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی
نے غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد روکنے اور پناہ کی ناکام درخواستوں کے بعد ان کی
اپنے ممالک واپسی کے عمل کو تیز ترین بنانے کے لیے سخت ترین اقدامات اٹھانے کا
اعادہ کیا ہے۔ حال ہی میں یورپی یونین کے اجلاس کے موقع پر انہوں نے یورپی قوانین
میں ایسی ہدف شدہ ترامیم کی ضرورت پر زور دیا ہے جو سرحدوں پر ہی تارکینِ وطن کو
حراست میں رکھنے اور غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کی فوری واپسی (Repatriation) کے عمل کو مزید مؤثر بنا سکیں۔
اس پالیسی کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- ·
سرحدی نگرانی اور فوری
واپسی: وزیر
اعظم میلونی کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ جو لوگ پناہ کے اہل نہیں پائے جائیں گے،
انہیں فوری طور پر اور قلیل مدت کے اندر واپس بھیجا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے یورپی
سطح پر ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر واپسی کے عمل کو تیز کرنے کی حکمت عملی بنائی
جا رہی ہے۔
- ·
تیسرے ممالک میں حراستی
مراکز (Return Hubs): اٹلی
نے یورپی یونین کے باہر (جیسے البانیہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت) ایسے مراکز
قائم کرنے کے ماڈل کی وکالت کی ہے جہاں پناہ کی درخواستوں پر فیصلہ ہونے تک
تارکینِ وطن کو رکھا جا سکے اور ناکامی کی صورت میں وہیں سے واپس بھیج دیا جائے۔
یورپی ممالک کی سطح پر اس اقدام کو سراہا بھی گیا ہے۔
- ·
نئے یورپی پبلک رولز کا
نفاذ: اٹلی
نے اپنے داخلی قوانین کو جون 2026 سے نافذ العمل ہونے والے یورپی یونین کے نئے
'مائیگریشن اینڈ اسائلم پیکٹ' کے مطابق ڈھالنے کے لیے ہنگامی احکامات منظور کیے
ہیں تاکہ اسکریننگ اور تیز رفتار واپسی کا قانونی فریم ورک مکمل کیا جا سکے۔
- ·
حکومت کا موقف:
میلونی کا کہنا ہے کہ مؤثر سرحدی دفاع اور انسانی
اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائی کے ذریعے ہی یورپی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا
جا سکتا ہے۔ ان کی سخت گیر پالیسیوں کے نتیجے میں حالیہ برسوں میں سمندری راستے سے
اٹلی پہنچنے والے تارکینِ وطن کی تعداد میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔