مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو 20 سے 22 اکتوبر تک پاکستان کا
سرکاری دورہ کریں گے جو 11 سال بعد مالدیپ کے کسی صدر کا پاکستان کا پہلا سرکاری
دورہ ہوگا۔ اس سے
قبل مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم نے 6 سے 7 مئی 2015 کو پاکستان کا
سرکاری دورہ کیا تھا، جس کے دوران انہوں نے پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کی
تھیں۔دفتر خارجہ کے مطابق مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو وزیراعظم شہباز شریف کی
دعوت پراعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ پاکستان آئیں گے۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کی
قیادت کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون
بڑھانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دفتر خارجہ کے مطابق صدرڈاکٹر محمد
معیزو صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جبکہ ان کے اعزاز میں سرکاری
ضیافت کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
مالدیپ کے صدر وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں
محدود اور وفود کی سطح پر بات چیت ہوگی۔ملاقاتوں میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان
دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینے کے ساتھ باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال
کیا جائے گا۔دفترخارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، صحت،
تعلیم، سیاحت، زراعت اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بات چیت متوقع ہے اس
کے علاوہ بحری سلامتی، ماحولیاتی تبدیلی اورعوامی سطح پر روابط بڑھانے کے امکانات
کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔دورے کے دوران پاکستانی اورمالدیپی قیادت کے درمیان
علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے، دونوں ممالک کے درمیان مختلف
شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
بھی کیے جائیں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق دورے کے موقع پر پاکستان مالدیپ بزنس فورم کا
انعقاد بھی کیا جائے گا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کو قریب لانا
اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔یہ دورہ پاکستان اور مالدیپ کے
درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، اقتصادی تعاون بڑھانے اور مختلف شعبوں
میں شراکت داری کے نئے امکانات پیدا کرنے کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے،
دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط سے باہمی تعاون کو نئی جہتیں ملنے کی
توقع ہے۔