امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں صرف چار دن باقی رہ گئے ہیں اور انتخابی مہم اپنے آخری مرحلے
میں داخل ہو چکی ہے۔ تازہ قومی سروے میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ریپبلکن پارٹی پر
برتری حاصل ہے، جبکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں کنساس اور آئیووا میں
ہونے والی اپنی دو انتخابی ریلیاں منسوخ کرکے تقریباً 20 ریاستوں میں ٹیلی فون کے ذریعے
انتخابی اجتماعات سے خطاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری جانب الاسکا میں سینیٹ کی
نشست کے انتخابی نتائج سے متعلق قانونی تنازع پیدا ہوگیا ہے جس کے
باعث نتائج کے اعلان میں تاخیر کا خدشہ ہے۔
ریئل کلیئر پولنگ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق قومی سطح پر
ڈیموکریٹس کو4.51 فیصدجبکہ ریپبلکنز
کو2.43 فیصد حمایت
حاصل ہے۔ اس طرح ڈیموکریٹس کو2.8فیصد
پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔امریکہ میں مارکویٹ لا اسکول پول کے ڈائریکٹر اور قانون و
عوامی پالیسی کے پروفیسر چارلس فرینکلن نے کہا کہ ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت اور معاشی
مسائل ریپبلکن پارٹی کے لئے تشویش کا باعث ہیں۔28 اکتوبر کو جاری ہونے والے مارکویٹ لا اسکول کے تازہ
سروے کے مطابق14 سے22 اکتوبر کے درمیان
ریاست وسکونسن میں کئے گئے سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت۳۷؍فیصد
رہی، جبکہ61 فیصد افراد نے
ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔ سروے میں صرف16 فیصد افراد نے کہا کہ وہ ایک سال پہلے کے مقابلے مالی
طور پر بہتر حالت میں ہیں جبکہ42فیصد
نے اپنی مالی حالت کو پہلے سے خراب اور اتنے ہی افراد نے تقریباً یکساں قرار دیا۔
فرینکلن نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹک ووٹروں
میں انتخابی جوش زیادہ ہے اور وہ ووٹ ڈالنے کے معاملے میں بھی زیادہ پُرعزم ہیں۔
ان کے مطابق اس صورتحال سے ڈیموکریٹس کو اہم برتری حاصل ہو رہی ہے اور یہ ملک کی
موجودہ صورتحال سے ریپبلکن ووٹروں کی مایوسی کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ریاست ٹیکساس
میں سی این این کے جمعرات کو جاری کردہ سروے کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار جیمز
ٹالاریکو کو49فیصد جبکہ ریپبلکن امیدوار کین
پیکسٹن کو43فیصد حمایت حاصل ہے۔ اسی سروے
میں مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدوارعبدالسید 49 فیصد
حمایت کے ساتھ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز (42 فیصد) سے آگے ہیں۔