اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے نے جمعہ کو یمن میں65,000سے
زائد پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشیوں کو متاثر کرنے والی تیزی سے بگڑتی ہوئی انسانی
صورتحال سے خبردار کیا ہے، کیونکہ شدید لڑائی، معاشی مشکلات اور انسانی امداد تک
رسائی پر پابندیوں کی وجہ سے ہزاروں افراد زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔یو
این ایچ سی آر کے ترجمان میتھیو سالٹمارش نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا، ’’یو
این ایچ سی آر تیزی سے بگڑتے ہوئے انسانی بحران پر تشویش میں مبتلا ہے،‘‘ انہوں
نے عدم تحفظ، وسائل کی کمی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ
حالات خاص طور پر جنوب مغربی صوبہ لحج میں واقع خراز پناہ گزین کیمپ میں تشویشناک
ہیں، جہاں صومالیہ اور ایتھوپیا کے تقریباً 9500پناہ
گزین مقیم ہیں۔اگرچہ پناہ گزینوں کی ہلاکت کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم کیمپ
کے قریب گولہ باری نے ضروری خدمات کو متاثر کیا ہے اور نقل و حرکت کو محدود کر دیا
ہے۔ اسکول بند ہو گئے ہیں، جبکہ قانونی امداد اور دستاویزات کی خدمات معطل کر دی
گئی ہیں۔
بعد ازاں سالٹمارش نے کہا کہ کچھ خاندان جنوبی علاقوں بشمول عدن کی
طرف بھاگ رہے ہیں، وہ سڑکیں استعمال کر رہے ہیں جو تنازع کے فریقین استعمال کرتے
ہیں اور خود کو مزید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔واضح رہے کہ اگست میں لڑائی میں شدت
آنے کے بعد سے، یو این ایچ سی آر نے تقریباً 600صومالی پناہ گزینوں کو تین پروازوں
کے ذریعے عدن سے موغادیشو رضاکارانہ طور پر واپس جانے میں مدد کی ہے۔1100 سے زائد دیگر نے واپس جانے
میں دلچسپی ظاہر کی ہے، لیکن مسلسل حملوں اور عدم تحفظ نے مزید کارروائیوں کو
پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دریں اثنا،2026ء
کے پہلے نو مہینوں کے دوران ایک لاکھ34000 سے زائد پناہ کے متلاشی اور تارکین وطن سمندر کے راستے یمن پہنچے، جو گزشتہ
سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً22
فیصد زیادہ ہے۔سالٹمارش نے یاد
دلایا کہ اکتوبر میں جبوتی کے ساحل پر یمن پہنچنے کی کوشش کے دوران کم از کم139 افراد مبینہ طور پر ہلاک ہو
گئے۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران2 لاکھ80 ہزار سے زائد یمنی بے گھر ہوئے ہیں، جبکہ ملک کے لیے یو این ایچ سی آر
کی انسانی ہمدردی کی اپیل صرف19 فیصد امدادی ہے۔مزید برآں علاقائی جہاز رانی میں خلل نے امداد کی فراہمی
کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، حالانکہ ایجنسی نے دبئی سے یمن تک ہنگامی سامان کے۱۱؍ کنٹینرز کی مفت نقل و حمل کو یقینی بنایا ہے۔