پولینڈ کے
دارالحکومت وارسا میں آئینی عدالت کا تنازع اس وقت غیرمعمولی صورتحال اختیار کر
گیا جب عدالت کے سربراہ اور ان کے نائب کو معطل کرنے کے فیصلے کے بعد سینکڑوں
افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ عدالت کے باہر حکومت اور اپوزیشن کے حامی آمنے سامنے
آگئے، حالات قابو سے باہر ہونے لگے تو فساد مخالف پولیس طلب کرنا پڑی، جبکہ
مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد تین افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولینڈ میں آئینی عدالت کے سربراہ کو ان کے عہدے
سے معطل کیے جانے کے بعد سیاسی اور عدالتی بحران شدت اختیار کر گیا۔ صدر کارول
ناوروکی سینیگال جاتے ہوئے دوران پرواز ہی طیارے سے ہنگامی طور پر وطن واپس پہنچ
گئے جبکہ عدالت کے باہر حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان
کشیدگی بھی دیکھی گئی، جس کے بعد پولیس نے تین افراد کو حراست میں لے لیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق
مظاہرین نے جمعے کی رات وارسا میں آئینی عدالت کے باہر احتجاج کیا۔ بعض مظاہرین نے
پولیس اہلکاروں پر اشیا پھینکیں اور عدالت کے گرد لگائی گئی حفاظتی باڑ عبور کرنے
کی کوشش کی۔ دوسری جانب پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی (Karol Nawrocki) جمعے کی شام سینیگال کے
لیے روانہ ہوئے تھے، تاہم ملک میں کشیدگی کے پیش نظر دورانِ پرواز انہوں نے طیارے
کا رخ واپس پولینڈ کی جانب موڑنے کا فیصلہ کیا۔ صدر ناوروکی ( Karol Nawrocki) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایسے
موقع پر صدر کا ملک میں موجود ہونا ضروری ہے، اس لیے وہ اپنا دورہ مختصر کرکے واپس
آ رہے ہیں۔ ہفتے کو صدر ناوروکی ( Karol Nawrocki) نے آئینی عدالت کا دورہ بھی کیا اور عدالت کے
معطل سربراہ کے حق میں مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس اقدام کو ملک کے آئینی نظام کی
خلاف ورزی قرار دیا۔
عدالتی سربراہ کو
کیوں معطل کیا گیا؟
پولینڈ کی آئینی عدالت کی سینئر جج اینا کورون پیوتروسکا (Anna
Korwin-Piotrowska) نے جمعے کو عدالت کے سربراہ بوگدان شویچکووسکی (Bogdan Swieczkowski)
اور
نائب سربراہ بارٹومئی سوچانسکی (Bartłomiej Sochański) کو
ان کے عہدوں سے معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔ جج اینا کورون پیوتروسکا (Anna
Korwin-Piotrowska) کا مؤقف ہے کہ عدالت کی موجودہ قیادت نے پارلیمان
کی اکثریت کی جانب سے منتخب کیے گئے ججوں کو اپنے فرائض انجام دینے سے روکا، جس کے
باعث عدالت کا کام متاثر ہو رہا تھا۔ تاہم عدالت کے موجودہ سربراہ اور ان کے
حامیوں نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ آئینی عدالت کے
سرکاری اکاؤنٹ پر اسے ادارے پر غیر قانونی قبضہ اور بغاوت کے مترادف قرار دیا گیا۔
وزیرِ انصاف والڈیمار ژوریک (Waldemar Żurek) نے
عدالت کے سربراہ اور نائب سربراہ کے خلاف فوجداری کارروائی کے لیے ان کا قانونی
استثنیٰ ختم کرنے کی درخواستیں بھی دائر کی تھیں، تاہم معطلی کا حکم انہوں نے نہیں
بلکہ سینئر جج اینا کورون پیوتروسکا (Anna Korwin-Piotrowska) نے
جاری کیا۔
حکومت اور صدر آمنے
سامنے کیوں ہیں؟
پولینڈ میں اس وقت وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک (Donald
Tusk) کی
قیادت میں یورپ نواز اتحادی حکومت قائم ہے جبکہ صدر کارول ناوروکی
(Karol Nawrocki)
سابق
حکمران جماعت لا اینڈ جسٹس (PiS) کے حمایت یافتہ ہیں۔
دونوں کے درمیان عدلیہ کی تشکیل، ججوں کی تقرری اور آئینی عدالت کے اختیارات پر
طویل عرصے سے اختلافات چلے آ رہے ہیں۔ وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک (Donald Tusk) کی حکومت کا
مؤقف ہے کہ سابق حکمران جماعت نے عدالتی نظام میں ایسی تبدیلیاں کیں جن سے عدلیہ
کی آزادی متاثر ہوئی اور اہم عدالتی اداروں میں سیاسی اثرورسوخ بڑھا۔ حکومت اب ان
تبدیلیوں کو واپس لینے اور عدلیہ کی آزادی بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری
جانب صدر ناوروکی (Karol
Nawrocki)
اور اپوزیشن جماعت لا اینڈ جسٹس کا الزام ہے کہ موجودہ حکومت
عدالتی اصلاحات کے نام پر اپنے مخالفین کو اہم ریاستی اداروں سے ہٹانے کی کوشش کر
رہی ہے۔ وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک (Donald Tusk) نے تازہ
صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی بحال کرنا حکومت کی ذمہ داری
ہے۔ ان کے مطابق سابق حکومت کے دور میں قانون کی خلاف ورزیوں کے بعد عدالتی نظام
کی اصلاح کا عمل مشکل اور بعض اوقات تکلیف دہ ضرور ہے، لیکن اس کے لیے فیصلہ کن
اقدامات ضروری ہیں۔
تنازع کا پس منظر کیا ہے؟
پولینڈ
میں عدلیہ کی آزادی اور سیاسی مداخلت کا تنازع 2015 میں اس وقت شروع ہوا جب لا
اینڈ جسٹس پارٹی اقتدار میں آئی۔ اس جماعت کی حکومت نے آئینی عدالت میں ججوں کی
تقرری اور عدالتی نظام کے طریقہ کار میں متعدد تبدیلیاں کیں۔ ان تبدیلیوں پر یورپی
یونین اور دیگر قانونی حلقوں نے اعتراضات اٹھائے اور الزام لگایا کہ حکومت عدلیہ
پر اپنا اثرورسوخ بڑھا رہی ہے۔ یورپی عدالتوں نے بھی پولینڈ کے عدالتی نظام میں
بعض تقرریوں اور آئینی عدالت کی آزادی سے متعلق سنگین قانونی اعتراضات اٹھائے۔ 2023
میں ڈونلڈ ٹسک (Donald Tusk) کی قیادت
میں نئی حکومت اقتدار میں آئی تو اس نے عدالتی نظام کو سیاسی اثرورسوخ سے آزاد
کرنے اور سابقہ اصلاحات تبدیل کرنے کا وعدہ کیا۔ تاہم اس عمل میں اسے صدر کی
مخالفت اور صدارتی ویٹو کا سامنا کرنا پڑا۔
2025
میں کارول ناوروکی (Karol
Nawrocki)
کے صدر منتخب ہونے کے بعد حکومت اور صدر کے درمیان اختلافات مزید
بڑھ گئے۔ صدر نے پارلیمان کی جانب سے نامزد کیے گئے چھ ججوں میں سے تین کی تقرری
کی حلف برداری سے انکار کر دیا جبکہ عدالت کے معطل سربراہ شویچکووسکی (Bogdan Swieczkowski) نے بھی
موجودہ پارلیمانی اکثریت کے منتخب کردہ ججوں کو ان کے عہدوں پر کام کرنے سے روکا۔ یوں
پولینڈ کی آئینی عدالت طویل عرصے سے سیاسی اور قانونی تنازع کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
تازہ معطلی اور اس کے خلاف احتجاج اسی کشمکش کا نیا مرحلہ ہے۔