جرمن وزارت داخلہ کے مطابق رواں سال کے پہلے نو ماہ کے
دوران ملک بدر کیے گئے افراد کی تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں
تقریباً 19 فیصد کم رہی۔ وفاقی
وزارت داخلہ نے یہ اعداد و شمار لیفٹ پارٹی کی درخواست پر جاری کیے۔ رپورٹ کے
مطابق جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران مجموعی طور پر 14 ہزار 324 افراد کو جرمنی سے ملک بدر کیا گیا، جبکہ 2025 میں اسی
عرصے کے دوران یہ تعداد 17 ہزار 651 رہی تھی۔
ملک
بدر کیے جانے والے افراد کو سب سے زیادہ ترکی بھیجا گیا، جبکہ جارجیا اور الجزائر
دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ اعداد
و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام کی سیاسی صورت حال کے باعث جرمنی سے شامی باشندوں
کی ملک بدری بدستور مشکل ہے، حتیٰ کہ سزا یافتہ مجرموں کو بھی واپس بھیجنے میں
مشکلات کا سامنا ہے۔ 2026 کے
آغاز سے اب تک صرف چھ افراد کو واپس شام بھیجا گیا ہے۔ اس
کے برعکس ترک باشندوں کی ملک بدری کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا، جہاں رواں سال اب
تک دو ہزار 25 افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ وفاقی
وزارت داخلہ کے مطابق جرمنی سے غیر ملکی شہریوں کی رضاکارانہ واپسی کی تعداد میں
بھی معمولی اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال 14 ہزار 140 افراد کو ان کے آبائی ممالک میں
واپس جانے کے لیے مالی یا دیگر نوعیت کی معاونت فراہم کی گئی، جبکہ گزشتہ سال یہ
تعداد 12 ہزار 263 رہی تھی۔
جرمنی سے
ملک بدری کا طریقہ کار کیا
ہے؟
جرمنی
میں امریکہ کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی
سی ای) ادارے جیسا کوئی خصوصی ادارہ موجود نہیں، جو ملک بدری کے تمام معاملات کو
براہ راست سنبھالتا ہو۔ گزشتہ
دس برسوں کے دوران جرمن حکومت نے متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن کا مقصد ایسے تارکین وطن کی ملک بدری کو آسان بنانا ہے، اور
بیوروکریٹک نظام کے مطابق 'جن کے قیام کے امکانات کم ہوں‘۔ حالیہ
عرصے میں اس عمل کو مزید تیز کیا گیا ہے۔ موجودہ چانسلر فریڈرش میرس اور ان کے پیش
رو اولاف شولس دونوں نے ملک بدری کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے کی
کوشش کی۔
عام
طور پر ایسے تارکین وطن جن کے پاس جرمنی میں رہائش کا قانونی اجازت نامہ موجود
نہیں، یا پناہ کے ایسے درخواست گزار جن کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہوں، انہیں ایک
مقررہ مدت کے اندر جرمنی چھوڑنا ہوتا ہے۔
پناہ
کے ناکام درخواست گزاروں کو عموماً ایک ماہ کی مہلت دی جاتی ہے۔ اگر وہ اس مدت کے
دوران ملک نہیں چھوڑتے، تو انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم
بعض افراد کو استثنیٰ بھی حاصل ہوتا ہے۔ انہیں جرمنی میں
عارضی طور پر قیام کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہ اجازت اس وقت دی جاتی ہے جب ملک
بدری میں کوئی رکاوٹ موجود ہو۔ مثلاً شناخت کے بارے میں غیر یقینی صورت حال، یا
کسی ایسے فرد کے ساتھ خاندانی تعلق جس کے پاس خود عارضی قیام کی اجازت ہو یا اجس
نے نسانی ہمدردی یا طبی وجوہات کی بنا پر قیام کی اجازت یا جرمنی میں ملازمت حاصل کر لی ہو۔
جرمنی
میں تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار افراد کو اس نوعیت کی عارضی اجازت حاصل ہے۔
ملک بدری کا فیصلہ کون کرتا ہے؟
ملک
بدری کا فیصلہ مقامی امیگریشن حکام کرتے ہیں، جو یہ جانچ بھی کرتے ہیں کہ ملک بدری
کے راستے میں کوئی قانونی رکاوٹ موجود ہے یا نہیں۔ اگر
ایسی کوئی رکاوٹ نہ ہو تو ملک بدری کی تاریخ مقرر کر دی جاتی ہے، جس کے بارے میں
متعلقہ شخص کو پیشگی اطلاع نہیں دی جاتی۔ اگر
کسی فرد نے پہلے ملک بدری سے بچنے کی کوشش کی ہو یا حکام کو خدشہ ہو کہ وہ فرار
ہونے کی کوشش کرے گا تو ریاست اسے ملک بدری تک حراست میں رکھنے کا حکم بھی دے سکتی
ہے۔
ملک
بدری کے فیصلے پر عملی کارروائی وفاقی پولیس کے اہلکار کرتے ہیں۔
بعض
صورتوں میں مخصوص ممالک کے لیے خصوصی طیارے کرائے پر حاصل کیے جاتے ہیں، جن کے
ذریعے متعدد افراد کو بیک وقت ملک بدر کیا جاتا ہے۔ پولیس کوشش کرتی ہے کہ ایسے طیاروں میں زیادہ سے زیادہ افراد کو
واپس بھیجا جا سکے۔ 2024 میں
ملک بدر کیے گئے تقریباً 20 ہزار 100 افراد میں سے 7 ہزار 300 کو خصوصی چارٹرڈ
پروازوں کے ذریعے واپس بھیجا گیا تھا۔ بہت
سے معاملات میں ملک بدری کے ممکنہ متاثرین کو پہلے امیگریشن حکام کے دفتر میں حاضر
ہونے کے لیے طلب کیا جاتا ہے، جہاں وفاقی پولیس کا ایک اہلکار انہیں ملک بدری کے
فیصلے سے آگاہ کرتا ہے۔ اس
کے بعد پولیس اہلکار انہیں ان کے گھر لے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے کپڑے اور دیگر
ضروری سامان جمع کر سکیں، اور پھر انہیں براہ راست ہوائی اڈے پر منتقل کر دیا جاتا
ہے۔ تاہم بعض صورتوں میں پولیس علی
الصبح ایسے افراد کے گھروں پر پہنچ کر انہیں گرفتار بھی کر لیتی ہے۔ امریکہ کے ادارے آئی سی ای کے برعکس جرمنی میں
پولیس اہلکار نقاب نہیں پہنتے بلکہ یونیفارم میں ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے شناختی کارڈ
لازماﹰ ساتھ
رکھنا ہوتے ہیں اور پوچھے جانے پر اپنا نام بھی بتانا ہوتا ہے۔